خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 473 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 473

خطبات طاہر جلد۴ 473 خطبه جمعه ۲۴ مئی ۱۹۸۵ء چنانچہ ان تصورات کے تابع ایسے واقعات ہمیں ہندوستان کے مختلف مذاہب میں ملتے ہیں کہ بعض لوگوں نے بازو کھڑا کیا اور کھڑے کھڑے باز و سوکھ گیا اور انہوں نے اسی کو عبادت سمجھا کہ خدا کی خاطر ایک بازو کو اونچا کھڑا کیا اور پھر کسی حالت میں نیچے نہیں گرنے دیا۔یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں سوکھ گیا اور یہ بہت بڑا معرکہ سمجھا گیا۔لمبی فاقہ کشی ایسی جو جسم کو بالکل توڑ کے دکھ دے۔یہ بھی عبادت سمجھی گئی اور کئی قسم کی مشقتیں با قاعدہ عبادت کا حصہ بنائی گئیں۔جتنی زیادہ مشقتیں کوئی شخص برداشت کر سکتا ہے سمجھا جاتا ہے کہ اتنا ہی بڑا وہ رشی بن جاتا ہے اتنا ہی بڑا وہ پیر اور فقیر ہو جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنی تعلیم کے مطابق خوب کھول کھول کر اس مضمون کو واضح فرمایا کہ عبادت کا بذات خود مشقت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ برعکس معاملہ ہے يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْر اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے تم اگر خدا سے پیار کرتے ہو تو خدا بھی تم سے پیار کرتا ہے۔اور اپنے پیارے کے لئے آسانی چاہی جاتی ہے نہ کہ تکلیف - وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ہر گز تمہارے لئے خدا تعالیٰ تکلیف نہیں چاہتا۔جب اس مضمون کو ہم سمجھتے ہیں تو ایک ایک پہلو کھل کے سامنے آجاتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ مضمون انسان کی ساری زندگی پر حاوی ہو گیا ہے۔جب عبادت کا یہ مفہوم ہی نہیں رہا کہ تکلیف اٹھائی جائے اور عبادت کا مفہوم صرف رضائے باری تعالیٰ کا حصول ہے تو انسانی زندگی میں تو دو ہی قسم کے حالات آتے ہیں یا مشقت یا راحت۔جس کی مشقت بھی خدا کی خاطر ہو جائے اور جس کی راحت بھی خدا کی خاطر ہو جائے اس کی زندگی کا ہرلمحہ عبادت بن گیا۔اس فلسفہ سے باہر جتنے فلسفے ہیں وہ انسانی زندگی کے ہر حصہ کو عبادت بنا سکتے ہی نہیں ناممکن ہے۔جب ایک عیسائی راحت محسوس کرتا ہے ازدواجی زندگی میں تو وہ اس عبادت کے تصور سے ہٹ کر محسوس کرتا ہے جو اسے رہبانیت کی تعلیم دیتی ہے۔جب ایک سادھو ہندوستان کے کسی جنگل میں آرام کرتا ہے تو اس عبادت کے تصور سے ہٹ کر آرام کرتا ہے جو اسے مسلسل مشقت پر آمادہ کرتی چلی جاتی ہے۔غرضیکہ دنیا کے جتنے مذاہب ہیں ان میں سے ایک بھی ایسا مذہب نہیں جس کا عبادت کا فلسفہ انسانی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہو۔ایک صرف اسلام ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے کو عبادت بنادیا۔