خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 472
خطبات طاہر جلد ۴ 472 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء نہیں کر سکتے ۔ اگر اس دوڑ میں تم پڑ گئے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو تم کبھی ہر انہیں سکو گے۔ وہ تمہیں توڑ کے رکھ دے گا۔ لیکن تم زبر دستی خدا کو کبھی خوش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ عبادت کی روح اطاعت ہے اور اطاعت کے ساتھ یہ شرط ہے کہ جس حال میں بھی ہو اس حال میں اطاعت کی خاطر اپنے محبوب کی رضا کو اپنی رضا کے اوپر غالب کر دیا جائے چنانچہ رض رت مصلح موعود جو فرماتے ہیں : حضرت فرماتے ہیں: ہو فضل تیرا یارب یا کوئی ابتلا ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو ( کلام محمود صفحه: ۲۷۳) یہ وہی فلسفہ ہے ۔ اصل مقصود رضائے باری تعالیٰ ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ه اسلام چیز کیا ہے خدا کیلئے فنا ترک رضائے خویش پئے مرضی خدا وو در ثمین صفحه : ۱۱۳) کہ اسلام کا خلاصہ چاہتے ہو تو وہ تو صرف یہ ہے ” خدا کے لئے فنا اللہ کے لئے اپنی ذات کے اوپر ایک فنا طاری کردو ۔ ترک رضائے خویش اپنی ذاتی مرضی ، اپنی ذاتی خواہشات کو خدا تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دو۔ یہ ہے اسلام کا خلاصہ۔ چنانچہ اس دوران اگر تکلیف ہو تو اس سے راضی رہو ، اگر آرام پہنچے تو اس آرام کو بھی عبادت سمجھو۔ یہ اسلامی فلسفہ ایسا ہے جو تمام انسانی زندگی کی ہر حالت پر محیط ہو جاتا ہے اور اسلامی عبادات کو دوسری تمام عبادات کے تصور سے بالکل ممتاز کر لیتا ہے۔ جتنے دیگر مذاہب ہیں ان میں عبادت کے ساتھ جان کنی تکلیف اور اذیت کا مفہوم شامل ملتا ہے۔ کسی بھی مذہب کی عبادت کا تصور آپ ڈھونڈیں ان کی کتب میں یا ان کی روایات میں تو اس تصور میں یہ ایک جزو لاینفک ملے گا آپ کو جو اس سے الگ نہیں ہو سکتا کہ اگر تم خدا کو خوش کرنا چاہتے ہو تو اس کے لئے عمداً تکلیف اٹھاؤ اور محض اس لئے تکلیف اٹھاؤ کہ خدا تمہاری تکلیف سے راضی ہوتا ہے۔