خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 467 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 467

خطبات طاہر جلدم 467 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء فرقے مسلمانوں کے بتائے جاتے ہیں سب کے سب اس مسئلہ کے اس حل پر متفق اور خوش ہیں۔(نوائے وقت ۶ اکتوبر ۱۹۷۴ء صفحه ۴ ) کیا اس بات پر خوش ہیں کہ ہم بہتر ہیں جو پہلے اپنے آپ کو ایک کہا کرتے تھے اور غیروں کی طرف انگلی اٹھا کر کیا شیعہ اور کیا سنی یہ کہا کرتے تھے کہ تم بہتر ہو اور ہم وہ ایک فرقہ ہیں جس کے متعلق ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری دی ہے کہ جب بہتر اور ایک کا جھگڑا چلے گا تو ایک جنتی ہو گا اور ۷۲ ناری ہوں گے۔اس دن دیکھیں تقدیر نے اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلا۔انہوں نے پاگلوں کے طرح اخباروں میں سرخیاں جما دیں اور فخر سے اعلان کیا کہ ہم۲ے ہیں اور مرزا غلام احمد کی جماعت وہ ایک ہے، وہ ایک ہے، وہ ایک ہے۔پس خدا کی قسم ! اگر وہ ایک ہے اور تم بہتر ہو تو پھر تمہارا فتویٰ نہیں چلے گا۔فتویٰ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا چلے گا اور کوئی ماں نہیں ہے جس نے کوئی ایسا بچہ پیدا کیا ہو جومحمد مصطفی ہے کے فتوے کو غلط قرار دے یا اسے الٹا سکے۔یادرکھو اے ستمبر ۷۴ ء کا دن تمہارے لئے رات بن کر آیا ہے اور ہمارے لئے اس دن روشنی کا ایک سورج طلوع ہوا جس نے احمدیت کو بقعہ نور بنا دیا تم نے اکٹھے ہو کر اپنے ہاتھوں سے یہ فیصلہ دے دیا کہ آج محمد مصطفی ﷺ کی پیشگوئی پوری ہوئی اور چونکہ تم اسی فیصلے میں آنحضرت ﷺ کے نکالے ہوئے نتیجہ کی تکذیب کے مرتکب ہوئے اس لئے وہ پیش گوئی اور بھی زیادہ شان کے ساتھ پوری ہوئی۔تمہاری اس ظالمانہ روش نے یہ فیصلہ کر دیا کہ تم جھوٹے ہو کیونکہ تم نے نتیجہ وہ نکالا ہے جو محمدمصطفی ﷺ کے نکلے ہوئے نتیجہ کے مخالف ہے۔پس یہ ہے تمہاری اکثریت اور یہ ہے تمہاری اکثریت کی حیثیت۔اس اکثریت کی ہمیں ایک کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کیونکہ اس اکثریت کی ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی ﷺ کو کوئی پرواہ نہیں۔تم نے ہمیں محمد مصطفی عبید اللہ سے کاٹنے کے لئے یہ اقدام کیا تھا مگر اس دن نے تو ہمیشہ کے لئے ہمارا پیوند حضرت محمد مصطفی ﷺ سے اور بھی زیادہ پکا کر دیا۔اگر تم سچے ہو نعوذ بالله من ذلک اور محمد مصطفی ﷺ نعوذ باللہ من ذلک غلط ہیں تو ہمیں وہ ایک بننا منظور ہے جو غلط ہو کر بھی ہمارے آقا محمد مصطفیٰ کے ساتھ رہتا ہے۔ہمیں یہ ہرگز منظور نہیں ہے کہ ہم ان بہتر وں کے ساتھ شامل ہوں جو ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی " کو منظور نہیں اس لئے جھوٹا کہو گے تب بھی ہم اپنے آقا محمد مصطفی ملے