خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 465
خطبات طاہر جلد۴ 465 خطبہ جمعہ ۷ ۱ رمئی ۱۹۸۵ء تھے جو اس حدیث کو سچا تسلیم کر گئے ۔ گویا ۷۴ء کی اسمبلی کو اکثریت کے زعم میں مسئلہ یوں سمجھ آیا کہ بہتر سچے ہیں۔ اور ایک جھوٹا ہے، بہتر جانتی ہیں اور ایک ناری ہے۔ چنانچہ اس مسئلہ کا فخر سے اعلان کیا گیا اور کیا جاتا رہا اور یہی مسئلہ ہے جس کو موجودہ حکومت کی طرف سے بھی مزعومہ قرطاس ابیض میں اچھالا جا رہا ہے ۔ غرض یہ ایک بہت بڑی جسارت اور بغاوت تھی جس کا لے رستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے ارتکاب کیا حالانکہ جماعت احمدیہ کے اس وقت کے امام کی طرف سے قومی اسمبلی کے سامنے بار بار اور کھلے لفظوں میں تنبیہ کی گئی تھی کہ تم شوق سے ہمارے دشمن بن جاؤ جو کچھ چاہو ہمیں کہتے رہولیکن خدا کے لئے اسلامی مملکت پاکستان میں میں حضرت حضرت محمد مصطفی الا کے خلاف تو تو علم علم بغاوت بغاوت بلند کرنے کی صلى الله عروسه صلى الله صلى الله جسارت نہ کرو۔ کل تک تم یہ مانتے چلے آرہے تھے کہ اگر بہتر اور ایک کا جھگڑا چلا تو بہتر ضرور جھوٹے ہوں گے اور ایک تہتر واں ضرور سچا ہوگا اس لئے کہ اَصْدَقُ الصَّادِقِین کی پیشگوئی ہے کہ بہتر جھوٹے ہوں گے یعنی اکثریت جھوٹی ہوگی اور ایک فرقہ سچا ہو گا مگر آج جماعت احمد یہ کو جھوٹا بنانے کے شوق میں تم یہ اعلان کر رہے ہو کہ بہتر سچے ہیں اور صرف ایک جھوٹا ہے۔ اس کا تو گویا یہ مطلب بنتا ہے کہ معرفت کا جو نکتہ ان کو سمجھ میں آگیا ہے وہ نعوذ باللہ من ذلک ، حضرت اقدس محمد مصطفی اے کی سمجھ میں بھی نہیں آیا۔ یہ دراصل اعلان بغاوت تھا جو آنحضرت عملے کے خلاف کیا گیا۔ ایسے لوگ اسلام میں رہ ہی نہیں سکتے اور کوئی جرم تھا یا نہیں مگر جس دن حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے واضح ارشاد کے خلاف کھلی کھلی بغاوت کا ارتکاب کیا گیا اس دن ضرور یہ غیر مسلم بن گئے تھے کیونکہ آنحضور کا ارشاد شک و شبہ سے بالا ہے اور چوٹی کے علماء اور مختلف فرقوں کے بانی مبانی اسے مانتے چلے آئے ہیں بلکہ اسے اسلام کی پہچان قرار دیتے رہے ہیں ۔ مگر یہ سب کے سب اس دن ایسے پاگل ہو گئے اور ان کی عقلیں ایسی ماری گئیں کہ سات ستمبر کو یہ اعلان کر دیا کہ بہتر فرقے اکٹھے ہیں یہ مسلمان ہیں یعنی جنتی ہیں اور ایک جماعت احمد یہ ہے جو ناری ہے۔ یہ تھی اصل حقیقت جس کی نعوذ بالله من ذلک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ نہیں آئی اور پھر بڑے فخر سے ساتھ یہ لوگ اس کو پیش کرتے رہے اور یہی کہہ کر جماعت کے خلاف نت نئے مطالبے کئے جاتے رہے۔ دراصل جماعت احمدیہ کی مخالفت کی تاریخ میں شروع سے ہی یہ گند اور کوڑھ داخل تھا کہ جماعت احمد یہ کو وہ جھوٹا بنا ہی نہیں سکتے جب تک اس حدیث کی تکذیب نہ کریں اس اس ۔ لئے پہلے بھی