خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 463 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 463

خطبات طاہر جلدم 463 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء بڑے مسائل اصول و فروع میں ان کا سخت اختلاف ہے اس لئے تمام اسلامی فرقے شیعہ کو مخالف سمجھتے ہیں لیکن حدیث مذکورہ کے مطابق یہی ایک فرقہ باقی فرقوں سے بالکل جدا ہونے کی وجہ سے ناجی اور بہشتی ہے۔“ (فتاوی حائری حصہ دوم صفحه ۵ -۶) اب بتائیے کل تو یہ بحث ہورہی تھی کہ بہتر کون ہیں اور ایک کون ہے اور کل تک یہ لوگ تسلیم کر رہے تھے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے بہر حال بیچ فرمایا ہے۔صرف جھگڑا یہ کریں گے کہ ہم وہ ایک ناجی فرقہ ہیں یا باقیوں میں سے وہ ایک فرقہ ہے یعنی جھگڑا یہ تھا کہ بہتر (۷۲) کون ہیں اور ایک تہتر واں (۷۳) فرقہ کون ہے۔چنانچہ جماعت اسلامی کا ایک مشہور آرگن” ترجمان القرآن ہے وہ بھی اس حدیث کو تسلیم کرتا ہے اور اس پر بحث اٹھاتے ہوئے لکھتا ہے۔اسلام میں نہ اکثریت کا کسی بات پر متفق ہونا اس کے حق ہونے کی دلیل ہے نہ اکثریت کا نام سواد اعظم ہے۔( بڑی کھل کر بات کی ہے ) نہ ہر بھیڑ جماعت کے حکم میں داخل ہے اور نہ کسی مقام کے مولویوں کی کسی جماعت کا کسی رائے کو اختیار کر لینا اجماع ہے۔۔۔اس مطلب کی تائید اس حدیث نبوی سے ہوتی ہے جو عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بایں الفاظ مروی ہے ( آگے وہی حدیث درج کی ہے کہ ) بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جو سب کے سب جہنم میں پڑ جائیں گے بجز ایک کے۔لوگوں نے پوچھا یہ کون لوگ ہوں گے یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا 66 وہ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر ہوں گے۔“ اس کے بعد ”ترجمان القرآن“ لکھتا۔تا ہے۔یہ گروہ نہ کثرت میں ہوگا نہ اپنی کثرت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل ٹھہرائے گا بلکہ اس امت کے تہتر فرقوں میں سے ایک ہوگا اور اس معمور دنیا میں اس کی حیثیت اجنبی اور بیگانہ لوگوں کی ہوگی جیسا کہ فرمایا بدء الا سلام غریبا وسيعود غريبا كمابدء فطوبى للغرباء۔۔"