خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 462
خطبات طاہر جلدم 462 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء پس یہ بہتر فرقے سب کے سب آگ میں ہوں گے اور ناجی فرقہ وہ ہے جو روشن سنت محمدیہ اور پاکیزہ طریقہ احمدیہ پر قائم ہے“ ان کے اصل الفاظ یہ ہیں۔فتلک اثنان و سبعون فرقة كلهم فى النار والفرقة الناجية هم اهل السنة البيضاء المحمدية و الطريقة النقية الاحمدية۔( مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد اول از ملاعلی قاری صفحه ۲۰۴) کتنے عظیم الشان بزرگ تھے اور کیسے تعلق باللہ والے لوگ تھے ایک پیشگوئی پر ایک اور پیشگوئی کر رہے ہیں اور خوب کھول کر بتا رہے ہیں کہ وہ محمد یہ فرقہ احمد یہ فرقہ کے ایسے رستہ پر ہو گا جو کہیں اور تمہیں نظر نہیں آئے گا۔اس حدیث کو مسلمانوں کے ہر گروہ نے تسلیم کیا اور وہ اسے اپنے اوپر چسپاں کرتے رہے۔شیعہ کہتے تھے کہ وہ ایک فرقہ ہم ہیں اور باقی سارے فرقے بہتر میں شامل ہیں جب کہ سنی یہ کہہ رہے تھے کہ ہم وہ ہیں جو ایک فرقہ ہے۔پھر ان میں سے بھی ہر فرقہ یہ کہتا تھا کہ وہ ناجی ہے اور دوسرے ناری ہیں۔چنانچہ ایک شیعہ مجتہد بہتر فرقوں والی حدیث کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ وہ اختلافات جو ان کے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان پائے جاتے ہیں وہ انہیں باقی فرقوں سے بالکل جُدا کر دیتے ہیں۔چنانچہ لکھتے ہیں۔”شیعہ حضرت امیر المومنین امام المتقین اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو خلیفہ بلا فصل بعد پیغمبر آخرالزمان ﷺ کے جانتے ہیں اور ان کے بعد ان کی اولاد سے گیارہ فرزند امام مهدی آخر الزمان علیه السلام تک یکے بعد دیگر ے خلیفۃ الرسول اور امام برحق مانتے ہیں۔لیکن باقی بہتر فرقے پہلا خلیفہ ابوبکر دوسرا عمر تیسرا عثمان، چوتھا علی علیہ السلام کو جانتے ہیں۔“ اسی قسم کی اور بھی علامتیں بیان کرنے کے بعد آخر پر لکھتے ہیں۔خلاصہ : تمام اصول اور فروع میں یہی ایک شیعہ فرقہ بہتر فرقوں سے علیحدہ ہے جس کا جوڑ کسی صورت میں ان کے ساتھ نہیں ہوسکتا کیونکہ بڑے