خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 461

خطبات طاہر جلد۴ 461 خطبه جمعه ۷ ۱ رمئی ۱۹۸۵ء باقی سب جہنم میں جائیں گے ۔ صحابہ نے پوچھا یہ ناجی فرقہ کون سا ہے۔ تو حضور نے فرمایا وہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہ کی سنت پر عمل پیرا ہو گا یا جس کے حالات میرے اور میرے صحابہ جیسے ہوں گے۔ یہ دونوں معنے ہیں یعنی جس حال پر تم مجھے اور میرے صحابہ کو پاتے ہو ان خیالات اور عقائد پر اگر کسی فرقے کو پاؤ گے تو وہ میرے والا فرقہ ہے اور وہی ناجی فرقہ ہے۔ یہ حدیث ایک بہت بڑی اہمیت کی حامل ہے خصوصاً اس ٹولے کے لئے جو آجکل پاکستان پر مسلط کیا جا رہا ہے جسے وہابی اہلحدیث ٹولہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس ٹولہ کے بانی حضرت امام محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ ایک بہت بڑے موحد بزرگ گزرے ہیں مسلمانان حجاز کی بھاری اکثریت ان کو بارھویں صدی کا مجدد تسلیم کرتی ہے وہ حدیث نبوی ستفترق هذه الامة على ثلاث و سبعين فرقة كلها في النار الا واحدة که میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے درج کر کے فرماتے ہیں: فرماتے ہیں : 66 فهذه المسئلة اجل المسائل “ کہ یہ مسئلہ اجل مسائل میں سے ہے۔ اور پھر فمن فهمها فهو الفقيه و من عمل بها فهو المسلم ( مختصر سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ ۱۴،۱۳ از امام محمد بن عبدالوہاب ) یعنی تہتر فرقوں میں سے بہتر (72) کے ناری اور ایک جنتی ہو۔ ہونے کا مسئلہ ایک عظیم الشان مسئلہ ہے جو اسے سمجھتا ہے وہی فقیہ ہے اور جو اس پر عمل کرتا ہے یعنی بہتر فرقوں کو عملاً ناری اور ایک کو جنتی قرار دیتا ہے صرف اور صرف وہی مسلمان ہے ۔ یعنی امام محمد بن عبدالوہاب نے مسلمان کی صلى الله علی اس میں تعریف یہاں پہنچ کر یہ کر دی کہ یہ حد یہ لہ یہ حدیث اتنی اہم ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اس جو مسئلہ پیش فرمایا ہے وہ اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ جو شخص اس کو تسلیم کرتا ہے اس پر عمل کرتا ہے اور یہ مانتا ہے کہ ہاں جب امت مسلمہ فرقوں میں بٹ جائے گی تو بہتر ناری ہوں گے اور ایک جنتی ہو گا اور یہ وہی ہے جو مسلمان ہے دوسرا مسلمان ہی کوئی نہیں ۔ شارح مشکوۃ اور فقہ حنفی کے مسلمہ عالم حضرت امام ملاعلی قاری تہتر فرقوں والی حدیث نبوی کی شرح میں لکھتے ہیں۔