خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 460
خطبات طاہر جلدم 460 خطبه جمعه ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء یعنی خیر القرون سے وہ زمانہ مراد نہیں جو آنحضرت علی کے اپنے الفاظ کے مطابق جھوٹ کی اشاعت کا زمانہ ہے۔بڑی عمدہ اور پختہ بات ہے اس کے خلاف کوئی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی۔سواد عظم کے متعلق خود حضور اکرم نے فرمایا لیکن ساتھ یہ بھی تو فر ما دیا کہ خیر القرون تین زمانے ہیں یا تین نسلوں کا نام ہے۔اس کے بعد کذب کی اشاعت شروع ہو جائے گی اور اندھیرا پھیل جائے گا۔اس زمانہ کو حضور اکرم نے خیر القرون نہیں فرمایا۔اس لئے جو زمانہ خیر القرون نہیں ہے بلکہ جھوٹ کی کثرت کا زمانہ ہے۔اس کو سواد اعظم کہ دینا اور اس سے شرعی استنباط کرنا بالکل بے بنیا د بات ہے پھر مولوی صاحب لکھتے ہیں۔مجھے تو یہ بات بہت پسند آئی۔واقعی کام کی بات ہے۔“ یہ ہے تو کام کی بات لیکن ہمارے کام کی بات ہے۔آپ کے کام کی بات نہیں ہے اور وہ جو زمانہ ہے جس کو حضور اکرم یہ اشاعت کذب کا زمانہ قرار دیتے ہیں۔اس کے متعلق بھی سن لیجئے کہ اس زمانہ کی اکثریت کے کیا حالات ہوں گے۔عن عبدالله بن عمرو رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليا تين على امتى ما اتی علی بنی اسرائیل حذو النعل بالنعل حتى ان كان منهم من اتى امه علا نية لكان في امتي من يصنع ذلك وان بنى اسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة و تفترق امتي على ثلاث و سبعين ملة كلهم في النار الاملة واحدة قالواو من هی یا رسول الله قال ما اناعليه واصحابی“ (ترمذی ابواب الایمان باب افتراق هذه الامة حديث نمبر : ۲۵۶۵) ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر و بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت پر بھی وہ حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے جن میں ایسی مطابقت ہوگی جیسے ایک پاؤں کے جوتے کی دوسرے پاؤں کے جوتے سے ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی ماں سے بدکاری کا مرتکب ہوا تو میری امت میں بھی کوئی ایسا بد بخت نکل آئے گا۔بنی اسرائیل بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی لیکن ایک فرقے کے سوا