خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 441

خطبات طاہر جلدم 441 خطبه جمعه ۱۰ارمئی ۱۹۸۵ء اپنی نیتیں پوری کر دکھاؤ گے اور لبیک کہ دو گے فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ پھر خدا تعالیٰ تمہیں تمام دنیا میں پھیلا دے گا، زمین کے کناروں تک تمہیں پہنچائے گا، وہاں دنیا کے لحاظ سے بھی فضل جوئی کرو گے اور دین کے لحاظ سے بھی فضل جوئی کرو گے۔بظاہر تم دنیا کے کاموں کے لئے بھی نکلو گے لیکن اللہ کے ذکر کے ساتھ نکلو گے۔اگر تم صناع ہو تو صناعی کے ساتھ ذکر الہی بلند کر رہے ہو گے، اگر تم تاجر ہو تو اپنی تجارتوں کو ساتھ ذکر الہی بلند کر رہے ہو گے، اگر تم ڈاکٹر ہو تو اپنی ڈاکٹری کو ساتھ ذکر الہی بلند کر رہے ہو گے، اگر تم سائنسدان ہو تو سائنس کے کاموں کے ساتھ ذکر الہی کو بلند کر رہے ہو گے غرضیکہ تمام دنیا میں ذکر پھیلانے کا ایک ذریعہ یہ ہوگا۔پس اس آیت میں کئی قسم کے وقف کا ذکر ہے۔ایک وقف خاص بھی مذکور ہے کہ دنیا کے سب کام کلیۂ چھوڑ کر جب آواز آئے تو اپنی ساری زندگی خدا کے حضور پیش کر دو۔دوسرا وقف عام کا بھی ذکر ہے کہ یہ فیصلہ کر لو کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔دنیا کو چھوڑ کر دین کی آواز پر لبیک کہنے کا یہ مطلب ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو شرائط بیعت ہیں ان میں یہ داخل ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔تو اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جب خدا کے نام پر بلانے والا تمہیں عظیم جمعہ کے لئے بلائے تو تم یہ فیصلہ کر کے اس کے حضور حاضر ہو کے ہم دنیا کو ترک کر دیں گے اور جب بھی دین کے ساتھ مقابلہ ہو گا تو دین کو ترجیح دیں گے۔فرمایا جب تم یہ عہد کر کے اس کے حضور حاضر ہو جاؤ گے پھر تمہیں اس شرط کے ساتھ اجازت مل جائے گی کہ چونکہ تم سب کچھ خدا کو دے بیٹھے ہو اب تمہارا کچھ نہیں رہا۔اس لئے اب تم جاؤ اور پھیلو اور دنیا کے کام بھی کرو لیکن اس عزم کے ساتھ کہ دنیا کے کاموں کے ساتھ ذکر الہی کونہیں بھولنا بلکہ اسے غالب رکھنا ہے۔اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا وَ ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللہ کے فضل کو ڈھونڈو۔وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا وَابْتَغُوا کے ساتھ کثیرا کا لفظ استعمال نہیں کیا لیکن وَاذْكُرُوا الله کے ساتھ كَثِيرًا کا لفظ استعمال فرمایا۔دنیا کے کام کرو مگر ذکر الہی غالب رہے۔اللہ کی محبت اور پیار تمہارے دنیا کے ہر ایک کام پر چھا جائے اور اسے مغلوب کر لے چونکہ