خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 423

خطبات طاہر جلدم 423 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء تھا۔اس میں کوئی بھی حقیقت نہ تھی کہ جماعت احمدیہ کا کلمہ اور ہے اور حضرت رسول کریم ﷺ نے جو کلمہ ہمیں سکھایا ہے وہ اور ہے۔غرض ان لوگوں کا اپنا یہ حال ہے کہ شیعوں نے بھی کلمہ تبدیل کر رکھا ہے اور سنیوں نے بھی کلمہ تبدیل کر رکھا ہے۔اور یہ زبانی کلامی باتیں نہیں بلکہ ان کی مختلف کتب اور رسائل میں یہ باتیں لکھی ہوئی موجود ہیں اور یہ علماء سب کچھ جانتے ہیں لیکن اس کے باوجود خاموش ہیں ان میں سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔ادھر جہاں تبدیلی نہیں کی گئی وہاں آواز اٹھا رہے ہیں لیکن جہاں تبدیلی کی گئی ہے وہاں کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ان کو کوئی غیرت نہیں آتی۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہ کے متعلق لکھا ہے۔ایک شخص نے خواجہ سے کہا ( یہ خواب نہیں ہے امر واقعہ ہے ایک شخص نے حضرت خواجہ سے کہا ) میں چاہتا ہوں کہ مرید ہو جاؤں۔کہا لا اله الا اللہ چشتی رسول الله کہو۔اس نے ایسا ہی کیا۔خواجہ نے اسے مرید کر لیا۔( حسنات العارفین اردو تر جمه صفحه ۳۴ تصنیف شہزادہ محمد داراشکوه قادری) اب یہ کہنا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے اپنا کلمہ پڑھوایا اس میں ان کی بھی بڑی سخت گستاخی اور بہتک ہے ان پر بھی بڑا ظالمانہ الزام ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی جیسے اہل اللہ بزرگ اور اپنے وقت کے مجدد ایسی باتیں کریں، لیکن جو لوگ انبیاء علیہم السلام کے خلاف بد زبانیاں کرتے ہیں اور جھوٹے افسانے گھڑ کر تہمتیں لگانے سے باز نہیں آتے وہ اپنے پیروں اور فقیروں کو ہدف ملامت بنائے بغیر کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔پس یہ وہ قوم ہے جس سے ہمیں واسطہ پڑا ہوا ہے۔ہمارا بھی عجیب حال ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے گنا ہوں کو معاف فرمائے جس قوم کو ایسے علماء سے واسطہ پڑا ہو وہ تھوڑی جزا کی حقدار تو نہیں بنتی۔پس اس وقت یہ شرف صرف جماعت احمدیہ کو ہی حاصل ہے۔جو دن رات مولویوں سے زبر دست مجاہدہ کرنے میں مصروف ہے اور ان کی جہالتوں کے پردے چاک کر کے دنیا کو روشنی کی طرف لانے کی زبر دست کوشش کر رہی ہے۔میں سمجھتا ہوں اور میرا یہ ایمان ہے کہ جماعت احمدیہ اس وقت اتنا بڑا مجاہدہ کر رہی ہے کہ اس کے مقابلہ میں عام انسانوں کے سینکڑوں سال کے مجاہدے