خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 422
خطبات طاہر جلد۴ 422 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء صاحب کو رحمۃ للعالمین کا مقام دیا اور پھر مولوی اشرف علی صاحب تھانوی کی جو خصوصیات بیان کی ہیں وہ بھی سنئے۔کہتے ہیں: آپ کا قد مبارک اور رنگت اور چہرہ شریف اعلیٰ اور تن شریف حضرت مولانا اشرف علی جیسا تھا۔“ ( اصدق الرؤیا صفحه ۵) یعنی آنحضرت ﷺ کا حلیہ مولوی اشرف علی تھانوی جیسا تھا۔یہ چونکہ خواب ہے اس لئے ہم اس کو ہدف ملامت نہیں بناتے۔مگر میں اس کو اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ جب کوئی احمدی خواب دیکھتا ہے تو اس پر یہ لوگ حملے کرتے ہیں اور کہتے ہیں آنحضرت ﷺ کی گستاخی ہوگئی۔لیکن جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہو کہ خواب میں بھی کسی اور سے مشابہت دینا رسول کریم ﷺ کے خلاف گستاخی ہے تو اس سے لازماً یہ ثابت ہوا کہ دیو بندی گستاخی کی زبان کھول رہے ہیں۔ہمارا تو یہ عقیدہ نہیں ہے۔آنحضرت علم کو خواب میں دیکھنے کے تو مناظر ہی اور ہوتے ہیں، اس کی تعبیریں کی جاتی ہیں اس لئے کبھی کسی صورت میں انسان دیکھ لیتا ہے اور کبھی کسی صورت میں۔تاہم یہ بہر حال ثابت ہے کہ شیطان کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کا تمثل اختیار کرے۔لیکن ایسے لوگ جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خواب میں بھی اگر کسی اور کی شکل دیکھو تو گستاخی ہوگی۔وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا حلیہ مولوی اشرف علی تھانوی جیسا تھا اور صرف یہی نہیں آگے چل کر خواب کی تعبیر بھی بیان ہورہی ہے۔چنانچہ لکھا ہے۔پھر لکھا ہے: صلى الله ہمارے مولانا تھانوی کی شکل میں ہیں (اصدق الرؤیا صفحه ۲۵) 66 شکل ایسی ہی ہے جیسے ہمارے مولانا تھانوی کی۔“ ( اصدق الرؤیا صفحہ ۳۷) پس بڑی بے باکی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو تھانوی سے ملا رہے ہیں یہ نہیں کہ تھانوی صاحب کو رسول اللہ اللہ سے ملائیں۔یہ لوگ ہم پر الزام لگاتے رہے اور ہمیشہ جھوٹے الزام دیتے رہے آخر انہوں نے خود ہی ثابت کر دیا کہ احمدیت کے خلاف ان کا پرو پیگنڈہ سراسر جھوٹ اور بہتان