خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 421
خطبات طاہر جلدم 421 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء ہوئی۔اس لئے کہتے ہیں ہم پوچھتے پھرتے تھے کہ کہے تو آگئے ہیں گنگوہ کا رستہ تو دکھاؤ وہ کس طرف ہے؟ گویا کعبہ سے بھی اگلا مقام گنگوہ ہے۔اور پھر یہاں آکر بھی تسلی نہیں ہوتی تو تر بتوں کی پوجا کا الزام لگانے والے یہ دیو بندی اپنے مولویوں کی تربت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں وہ بھی سن لیجئے فرماتے ہیں۔تمہاری تربت انوار کو دے کر طور سے تشبیہ کہوں ہوں بار بار ادنی مری دیکھی بھی نادانی اب یہاں ”مری دیکھی بھی نادانی میں تو کوئی عذر نہیں کیونکہ اس کا ایک اور مفہوم بھی ہے جیسے غالب نے کہا ہے۔یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا (دیوان غالب صفحه ۸۰) ایک یہ نادانی بھی ہوسکتی ہے۔یہ کہہ کر کہ میں نے اپنے امام کی ہتک کر دی ہے کہ تمہاری تربت کہاں کہاں ہوئی لیکن یہ معنی نہ تھے۔پھر بھی نادانی کی گنجائش کوئی نہیں رہتی۔نادانی ایک دفعہ ہو گئی دو دفعہ ہوگئی لیکن یہ مرثیہ خواں تو کہتے ہیں ع کہوں ہوں بار بار ادنی مری دیکھی بھی نا دانی یہ نادانی نہیں یہ تو خطا ہے اور ایسی بڑی خطا ہے کہ ایک مولوی صاحب کی تربت کو طور سے تشبیہ دے رہے ہیں۔یعنی خدا کو مخاطب کر کے حضرت موسی نے جو کہا تھا ارنی۔یہ ایک تربت کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں ارنی ارنی مجھے اپنا جلوہ دکھا اور اب بھی یہ موحدین ہیں۔اور صرف یہی نہیں آگے چل کر ان کے نزدیک ان کے مولویوں اور مفتیوں کا مقام کیا ہے وہ بھی سن لیجئے : آج نماز جمعہ پر یہ خبر جانکاہ سن کر دل حزین پر بے حد چوٹ لگی کہ رحمۃ اللعالمین (مفتی محمد حسن دیو بندی لاہور ) دنیا سے سفر آخرت فرما گئے۔“ ( تذکرہ حسن بحوالہ ماہنامہ تجلی دیو بند و ماهنامه نوری کرن بریلی فروری ۱۹۶۳ء) کیا ان لوگوں نے اب کوئی گنجائش باقی رہنے دی۔انہوں نے اپنے ایک دیو بندی مفتی