خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 420

خطبات طاہر جلد ۴ 420 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء 66 بھی حاصل ہے۔“ (حفظ الایمان مصنفہ اشرف علی تھانوی ص ۱۱۶) دلیل دو اور بے شک جو ایک غلط اور فاسد عقیدہ ہے اس کو غلط ثابت کرو مگر گستاخی تو نہ کرو۔ آنحضرت کا مجنون اور جمیع حیوانات سے مقابلہ و مواز نہ تو نہ کرو۔ یہ تو ایسی گستاخی ہے کہ اس علی صلى الله سے آدمی پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو بریلویوں پر بڑی بڑی زبانیں کھولتے ہیں کہ وہ صلى الله عروسه ۔ مشرک ہیں اور یہ کہ انہوں نے گویا آنحضرت ﷺ کے مقام کو بڑھا دیا اور غیروں کو خدا کے۔ ساتھ شریک کر لیا۔ یعنی ان میں دو قسم کے شرک گنواتے اور حملے کرتے ہیں کہ ایک شرک فی النبوت اور دوسرا ا الله شرک فی الالوہیت کہ وہ الوہیت باری میں بھی شریک ٹھہراتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے تقدس میں صلى الله عروسه بھی غیر اولیاء کو شریک ٹھہراتے ہیں اور خود بڑے موحد بنتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ آنحضرت علی کی شان اقدس میں کیسی کیسی گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بایں ہمہ اپنے علماء کے متعلق کیا کیا لکھتے وو ہیں یا ان کے متعلق کیا تصور رکھتے ہیں وہ سن لیجئے ۔ مولوں رشید احمد گنگوہی کی وفات پر شیخ الہند مولوی محمود الحسن صاحب نے جو مرثیہ لکھا اس کے (صفحہ:۲ ۱۴) چند اشعار سننے کے لائق ہیں۔ زبان پر اہل ہوا کی ہے کیوں اعل حبل شاید اٹھا عالم سے کوئی بانی اسلام کا ثانی نعوذبالله من ذلک گویا رشید احمد گنگوہی بانی اسلام کے ثانی ہیں اس لئے اب مقابل کے لوگ اعل ھیل کی آوازیں بلند کرتے ہیں پھر کہتے ہیں : ه خدا ان کا مربی وہ مربی تھے خلائق کے میرے مولا میرے ہادی تھے بیشک شیخ ثانی پھریں تھے کعبہ میں بھی پوچھتے گنگوہ کا رستہ جو رکھتے اپنے سینہ میں تھے ذوق وشوق عرفانی ہے یعنی مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ثانی ہو گئے اور گنگوہ کعبہ کا ثانی ہی نہیں بلکہ کعبہ اس کی راہ دکھانے والا بن گیا ۔ کعبہ تو اس کی اردل میں آجاتا ہے ۔ وہاں پہنچ کر تمنا پوری نہیں ہوئی ۔ مقدس مقام کو دیکھنے کی جو حرص و آرزو تھی وہ پوری نہ