خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 410
خطبات طاہر جلدم ہی نہیں نکلے۔“ 410 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء یعنی جنت میں داخل ہونے کا ایک یہ بھی رستہ ہے جو قرآن کریم کو معلوم ہی نہیں لیکن ان مفسر صاحب کو معلوم ہے۔قرآن کریم نے تو یہی بتایا ہے کہ جس نے جنت میں جانا ہو وہ سچ کے رستے سے آئے اور یہ مفسر صاحب ہیں ان کو علم ہو گیا کہ ایک یہ بھی رستہ ہے جس کا ایک نبی اللہ کو پتہ تھا اور وہ جھوٹ کا رستہ تھا چنانچہ جھوٹ کے رستہ سے وہ جنت میں داخل ہو گئے۔نعوذ باللہ من ذلک۔حضرت لوط علیہ السلام کی پاکیزگی اور اپنی بیٹیوں کے لئے غیرت کا جو تصور مفسرین نے پیش کیا ہے وہ سنئے۔تفسیر کشاف اور جلا لین میں لکھا ہے: حضرت لوط نے اپنی بیٹیاں پیش کر دیں کہ ان سے شادی کر لو۔“ ( تفسیر سورة هود زیر آیت هولاء بنتى من اطهر لكم ) یعنی دو آدمیوں کو دو بیٹیاں، تین تھیں تو تین آدمیوں کومل گئیں۔مگر سوال یہ ہے کہ ساری قوم کو یہ جواب کیسے مطمئن کر سکتا تھا اور کیا ان کو عورتیں نظر ہی نہیں آتی تھیں۔قرآن کریم میں تو یہ ذکر ہورہا ہے کہ ان کے ذہن گندے تھے ، ان کے ذہنوں کی بناوٹ نہایت ہی ٹیڑھی ہو چکی تھی ، ان کو ذلیل عادتیں پڑھ چکی تھیں ، ہم جنس سے وہ لذتیں پوری کرنے کے عادی ہو چکے تھے اس لئے وہ حملہ کر کے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے کہ تم پاگیزگی کی یہ کی تعلیمیں ہمیں دے رہے ہو اور اس کا علاج جو نعوذ بالله من ذلک حضرت لوط علیہ السلام نے سوچا وہ بقول مفسرین یہ تھا کہ ساری قوم کی بیٹیوں کو رد کر کے اپنی دو بیٹیاں پیش کر رہے ہیں کہ یہ لے لو اور وہ گندے کام چھوڑ دو۔جہالت کی بھی حد ہے اللہ کے نبی پر ایسا بیہودہ الزام اور پھر ساتھ جہالت کا بھی الزام لگاتے ہوئے ذرا شرم نہیں آئی۔حضرت داؤد علیہ السلام خدا کے پاک اور عظیم الشان نبی ہیں ان کی زبور پڑھ کر دیکھ لیں خدا سے کیسی کیسی محبت کرنے اور اس کی قدوسیت کے گیت گانے والے نبی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بڑے پیار اور محبت کے ساتھ زبور کا ذکر فرمایا ہے۔لیکن حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق تفسير البغوى وتفسير الخازن میں هَلْ اَتُكَ نَبَوُا الْخَصْمِ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ (ص:۲۲) کی تفسیر میں لکھا ہے:۔حضرت داؤد " محراب میں زبور پڑھ رہے تھے (یعنی خدا کی حمد کے گیت گا رہے تھے ) کہ ایک سونے کی کبوتری آپ کے پاس آکر گری (اب سونے کی کبوتری کس