خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 408
خطبات طاہر جلد۴ 408 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء ہیں ، آدمی کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کیا مقام ہے اس کتاب کا ان کے نزدیک ! ایک اور بحث اٹھائی گئی ہے ردالمختار علی الدر المختار میں اور یہ احناف کی فقہ کی وہ کتاب ہے جو بریلویوں اور دیو بندیوں دونوں کو قبول ہے ۔ ان میں سے جو حنفی ہیں وہ سارے اس کو مانتے ہیں ۔ اس کتاب میں لکھا ہے: اگر نکسیر پھوٹے پس لکھی جائے سورۃ فاتحہ خون کے ساتھ اس کی پیشانی پر اور ناک پر ، جائز ہے شفاء کے حصول کے لئے اور اسی طرح سورۃ فاتحہ ، اس پیشاب سے بھی لکھنی جائز ہے ۔ (ردالمختار علی الدر المختار جلد اول صفحہ ۱۵۴) 66 یہ ان کا دین ہے! یہ ان کی گستاخیاں ہیں !! صلى الله ۔ آپ اب میں آنحضرت ا اور دیگر انبیاء علیہم السلام کے متعلق ان کے قصے سناتا ہوں ۔ علی حیران ہوں گے کہ کیسے کیسے قصے گھڑے ہوئے ہیں۔ آپ شکر کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج کر آپ کو کیسے کیسے ظلمات کے پردوں سے نکال کر روشنی عطا فرمائی ہے۔ اس ضمن میں بے شمار حوالے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ایک خطبہ میں ان کو بیان کرنے کا حق ادا ہی نہیں ہو سکتا بلکہ کئی مہینے لگ جائیں گے اگر ان کی ساری باتیں کھول کر بیان کی جائیں۔ عصمت انبیاء کے مضمون کو لے لیجئے جماعت احمد یہ کا اس بارہ میں جو عقیدہ ہے وہ بڑا واضح ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں متعد د جگہ بڑی کثرت کے ساتھ اور بڑی او شان کے ساتھ عصمت انبیاء کا مضمون بیان ہوا ہے۔ اس کا خلاصہ حضرت مصلح موعود کے الفاظ میں سنئے ۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے تمام نبی معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں ۔ وہ سچائی کا زندہ نمونہ اور وفا کی جیتی جاگتی تصویر ہوتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور صفائی اور خوبصورتی سے اللہ تعالیٰ کی سبوحیت اور قدوسیت اور اس کے بے عیب ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ در حقیقت وہ ایک آئینہ ہوتے ہیں جس میں بدکار بعض دفعہ اپنی شکل دیکھ کر اپنی بدصورتی اور زشت روئی کو ان کی طرف منسوب کر دیتا ہے ۔ نہ آدم شریعت کا توڑنے والا تھا ، نہ نوح