خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 407

خطبات طاہر جلدم 407 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء صاحب نے کمال کی تفاسیر لکھی ہیں۔چنانچہ حور کی تشریح جو تفہیم القرآن تفسیر سورۃ الصافات اور تفسیر سورۃ دخان اور سورۃ الرحمان پر درج کی گئی ہے بڑی لمبی عبارت ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حُورٌ مَّقْصُورَت فِي الْحَيَامِ (الرحمن :۷۳) میں خیموں سے مراد غالباً اس طرح کے خیمے ہیں جیسے امراء رؤساء کے لئے سیر گاہوں میں لگائے جاتے ہیں جہاں حوریں ہوں گی اور وہ خیموں کے اندر قید ہوں گی۔فرماتے ہیں یہ دراصل غیر مسلموں کی نابالغ بیٹیاں ہیں چونکہ وہ جنت میں نہیں آسکتیں اس لئے جنت سے باہر باغات میں ان کے خیمے ہوں گے اور جو نیک لوگ پاک بیبیوں کے ساتھ رہ رہے ہوں گے ان کی خواہش ہوگی کہ وہ ان سے بھی ملاقاتیں رکھیں اور شب باشیاں کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو اجازت فرمایا کرے گا کہ ان خیموں میں غیر مسلموں کی جو خوبصورت بیٹیاں ہیں جو اس وقت تک جوان ہو چکی ہوں گی ان کے ساتھ راتیں گزار کے پھر واپس اپنی بیویوں کے پاس آجایا کریں۔چنانچہ تفہیم القرآن پر لکھتے ہیں: ایک نعمت کے طور پر جوان اور حسین و جمیل عورتوں کی شکل دے کر جنتیوں کو عطا کر دے گا تا کہ وہ ان کی صحبت سے لطف اندوز ہوں لیکن بہر حال یہ جن و پری کی قسم کی مخلوق نہ ہوں گی کیونکہ انسان کبھی صحبت ناجنس سے مانوس نہیں ہوسکتا۔(تفہیم القرآن جلد ۵ ص۲۷۲) یعنی یہ بھی بیان کر دیا کہ حوروں کے متعلق یہ کہنا کہ وہ کوئی روحانی مخلوق ہیں بالکل غلط ہے ان کا جنت کے متعلق یہ جسمانی تصور ہے جس کی دلیل کے طور پر انہوں نے یہ سارا قصہ گھڑا ہے۔کہتے ہیں جس طرح ہم یہاں گوشت پوست کے انسان ہیں ویسے ہی وہاں ہوں گے اور چونکہ ایک انسان اپنی حاجات ضرور یہ جنوں اور پریوں کی قسم کی مخلوق سے پوری نہیں کر سکتا۔اس لئے لازمی طور پر گوشت و پوست کی حوریں ہونی چاہئیں اور وہ کہاں سے آئیں گی۔مسلمان عورتیں تو خود جنت میں ہوں گی۔وہ تو ان کی بیویوں کے طور پر یا دوسرے رشتہ داروں کے طور پر ہوں گی تو انہوں نے یہاں کیسی اچھی ترکیب نکالی اور کیا اچھا رشتہ نکالا ہے کہ غیر مسلموں کی لڑکیوں کو جو نابالغ مرگئی ہوں ان کو حوریں بنا کر وہاں پہنچا دیا جائے۔ذرا ان کی نگاہ میں قرآن کریم کی عزت افزائی دیکھئے۔حد ہے کہ ایسے ایسے گستاخانہ کلمات قرآن کریم کے متعلق بطور معارف بیان ہورہے