خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 401

خطبات طاہر جلدم 401 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء " حضرت امام حسین کی تکلیف اور بے بسی کو دیکھ کر ملائکہ نے خدا تعالیٰ سے بصد اصرار عرض کیا کہ حضرت امام حسین کی مدد کرنے کی اجازت دی جائے ( یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا ہوا تھا کہ میں نے اجازت نہیں دینی اور فرشتے کہتے تھے کہ ہمیں ضرور اجازت دی جائے ) بالآخر اللہ تعالیٰ نے اجازت دی لیکن (افسوس) جب فرشتے زمین پر جا پہنچے اس وقت حضرت امام حسین شہید ہو چکے تھے“۔(جلاء العیون اردو تر جمه جلد۲ باب پنجم فصل ۱۴صفحه ۴۹۸، فصل ۷ صفحه ۵۳۹) گویا خدا تعالیٰ نے اجازت ذرالیٹ دی اس لئے فرشتوں کو دیر لگ گئی پہنچنے میں۔اس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ مخالفین احمدیت کا خدا اور اس کے فرشتوں کے بارہ میں کیسا مضحکہ خیز تصور ہے اور حملے کرتے ہیں حکم و عدل پر۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارتیں تو ذرا پڑھ کے دیکھیں کہ خدا کیا ہے اور فرشتے کیا ہیں آسمانی کتابیں کیا ہیں اور انبیاء علیہم السلام کیا ہیں۔مگر مخالفین احمدیت نے ان کے بارہ میں جو تصورات پیش کئے ہیں وہ ان تصورات کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتے جو قرآن کریم اور سنت نبوی سے اخذ کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی پاک زبان میں ہمارے سامنے پیش فرمائے ہیں۔یہ تو میں نے شیعہ کتب سے فرشتوں کے تصور کے بارہ میں جلاء العیون کا حوالہ پڑھ کر سنایا ہے۔اب ان کا ایک اور حوالہ بھی سنئے لکھا ہے: اور ایک فرشتہ نے (حضرت علیؓ سے) کہا السلام علیک یا وصی رسول الله وخليفته۔اور پھر خضر سے ملاقات کی اجازت مانگی۔حضرت علیؓ نے اجازت دے دی۔اس پر حضرت سلمان فارسی پاس کھڑے تھے انھوں نے کہا کیا فرشتے بھی آپ کی اجازت کے بغیر کسی سے مل نہیں سکتے۔تو کہتے ہیں (حضرت علیؓ نے فرمایا ) قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمانوں کو بلاستون ظاہری بلند فرمایا ہے ان تمام ملائکہ میں سے کوئی بھی میری اجازت کے بغیر ایک دم کے لئے اپنی جگہ نہیں چھوڑ سکتا اور یہی حال