خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد۴ 400 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء جیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کا وہاں سے گزر ہوا۔آپ نے بڑھیا کو دیکھ کرفرمایا کہ کیا بات ہے، کیا غم ہے؟ بڑھیا نے بتایا تو فرمایا کہ کوئی بات نہیں۔چنانچہ انہوں نے توجہ کی تو بارہ سال کا ڈوبا ہوا بیڑا دریا سے ابھر آیا۔سارے لوگ زندہ سلامت ہنستے کھیلتے دولہا دلہن اسی طرح خوشی خوشی باہر آگئے۔گلدسته کرامت ص ۲۳ - ۲۶ مصنفہ مفتی غلام سرور صاحب) یہ ہے ان کا خدا کے بارہ میں تصور ! دیکھئے کس طرح انسان کو خدائی میں شریک بنایا گیا ہے۔چنانچہ وہ اپنے زور اور اپنی قوت کے ساتھ بارہ بارہ سال کے مرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر مقدرت رکھتا ہے۔پھر ملائکہ کے بارہ میں ان کا جو تصور ہے وہ بھی اتنا بگڑا ہوا ہے کہ حیرت ہوتی ہے دنیا کے سامنے کس اسلام کو پیش کریں گے۔یہ لوگ ملائکہ کا جو تصور پیش کرتے ہیں وہ بھی ذرا غور سے سنئے لکھا ہے: اللہ تعالیٰ نے ملائکہ میں سے بڑے عابد دوفرشتے جن کا نام ہاروت ماروت تھا چھانٹے ( یعنی ملائکہ میں سے عام نہیں بلکہ چوٹی کے عابد زاہد فرشتے جو خدا کو پسند آئے کہ یہ بڑے اچھے بزرگ فرشتے ہیں وہ چھانٹے ) اور انسان کی سب خواہشیں ان میں پیدا کر کے کوفہ کی سرزمین پر جو ایک جگہ بابل ہے وہاں ان کو بھیجا اور وہاں وہ ایک عورت زہرہ نامی پارسن کی الفت میں مبتلا ہوکر (پارسن کا اندازہ کیجئے کس طرح پتہ چلتا ہے اس کو کہتے ہیں ناتفصیلی علم۔جانتے ہیں کون تھا کیا ذات تھی کیا قوم تھی اور کس طرح اس کے عشق میں مبتلا ہوئے فرشتے بیچارے ) اس کے کہنے سے شراب پی گئے اور شراب میں۔۔۔زنا کے علاوہ شرک اور قتل نفس کا گناہ بھی ان سے سرزد ہوا اور ان گناہوں کی سزا میں قیامت تک ان پر طرح طرح کا عذاب نازل ہوتا رہے گا۔“ ( تفسیر احسن التفاسیر جلد نمبر اصفحہ ۱۰۸ مولفہ مولانا احمد حسن صاحب محدث دہلوی) یہ ہیں ان کے فرشتوں کے بارہ میں تصورات اور جہاں تک شیعہ کتب میں فرشتوں کے تصور کا تعلق ہے تو وہ بھی سنئے۔کہتے ہیں: