خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 393
خطبات طاہر جلدم 393 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء شدید مقدر ہے۔لیکن بد بختی سے کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوتے ہیں۔الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وہ آخرت کی زندگی پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دینے لگتے ہیں اور صرف یہی نہیں کہ اپنے لئے ترجیح دیتے ہیں بلکہ دوسروں کی راہ بھی روکتے ہیں تا کہ وہ ہدایت کی پیروی نہ کریں۔وہ راہیں روک کر بیٹھ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی راہوں کو ٹیڑھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کی افتاد طبع کی طرح اللہ کی راہ ٹیڑھی ہو جائے اور لوگ ان کے خیالات کی پیروی کریں نہ کہ اللہ کے احکام کی۔فرمایا: اوليك فِي ضَللٍ بَعِید یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔ضَالِ بَعِید میں اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ اس قسم کی ٹیڑھی سوچوں والے پھر نجات پایا نہیں کرتے ، ان کا نجات پانا ایک بہت دور کی بات ہوتی ہے۔یہ سیدھی راہ سے بھٹکتے بھٹکتے اتنا دور نکل گئے ہیں کہ ان کے لئے واپس آنے کا وقت نہیں رہا۔یعنی آئمۃ السلفیر جن کی بات ہورہی ہے ان کو آواز دینا تو فرض ہے اور ہدایت کی طرف بلا نا تو ضروری ہے لیکن بعض بد بخت اور بد قسمت لوگ جو آئمۃ التکفیر کہلاتے ہیں وہ ضلال بعید میں مبتلا ہوتے ہیں اور گمراہی میں اتنے دور نکل چکے ہوتے ہیں کہ ان کی واپسی کی امید بہت تھوڑی رکھی جاسکتی ہے۔مذہبی لحاظ سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لانے کا یہی وہ کام تھا جو آنحضرت علی کی غلامی میں حضرت مہدی علیہ السلام کو سونپا جانا تھا اور یہ کام آپ کے لئے مقدر تھا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے آپ کے متعلق فرمایا کہ وہ حکم و عدل ہوگا ، وہ ایسے وقت میں آئے گا جب کہ دین میں ٹیڑھی راہیں تجویز ہو چکی ہوں گی ، خدا تعالیٰ کی جاری کردہ راہ میں کئی اور راہیں نکال لی جائیں گی اور مذہب اسلام کو پارہ پارہ کر دیا گیا ہوگا ، اختلافات حد سے زیادہ بڑھ چکے ہوں گے۔اس وقت امام مہدی پیدا ہوں گے جو لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکال لائیں گے۔چنانچہ امام مہدی کے متعلق اس مضمون کو احادیث میں حکم و عدل کے عنوان کے تحت بیان کیا گیا ہے۔کیونکہ ظاہر ہے اختلافات پیدا ہوں گے تو وہ حکم بن کر آئے گا، ایک دوسرے سے معاملات میں جور و ستم ہوں گے تو وہ عدل بن کر آئے گا۔پس دنیا میں جب اختلافات بڑھ جانے تھے تو امام مہدی نے آکر اختلافات مٹانے کے لئے فیصلے کرنے تھے اور اسلام کے متعلق بگڑے ہوئے تصورات کے متعلق فیصلے دینے تھے کہ اصل صورت کیا ہے۔یہی وہ کیفیت ہے جس کو بیان