خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 33 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 33

خطبات طاہر جلد۴ 33 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۸۵ء ایسی بات بھی کر دیتا ہے جس کو وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے اس کے لئے نیک فال ثابت ہوتی ہے۔پس اگر ایک مٹی کا ٹوکرا ایک نیک فال بن سکتا ہے تو ہمارے سروں پر جو کلمہ کی حفاظت کا ٹو کرا رکھا گیا ہے یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے ، اس سے بڑی نیک فال اور کیا ہوسکتی ہے۔خدا کی قسم ! کسری کی مٹی کو تو اس کلمہ کی حفاظت کی ذمہ داری کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت حاصل نہیں، اس سے ہزاروں لاکھوں گنا بڑھ کر یہ نیک فال ہے ہمارے لئے کہ آج خدا کی تقدیر نے کلمہ کی حفاظت کا کام ہمارے سپر د کر دیا ہے، ہمارے سپرد کر دیا ہے اور ہمارے سپرد کر دیا ہے اور کلمہ کو مٹانے کی ناپاک اور منحوس ذمہ داری تمہارے اوپر ڈالی گئی ہے لیکن ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں اور خدا کی قسم ہمارا بوڑھا اور بچہ اور ہماری عورتیں اور جوان اور کم سن سارے اس عہد کے اوپر ہمیشہ پورے رہیں گے کہ کلمہ توحید کی ہم حفاظت کریں گے اور کلمہ توحید کو نہیں مٹنے دیں گے، نہ ظاہر میں نہ باطن میں کوئی نہیں ہے جو کلمہ سے وابستگی کا حق ہم سے چھین سکتا ہو۔ہم یہ پسند کریں گے کہ ہمارے وجود مٹا دیئے جائیں لیکن یہ پسند نہیں کریں گے کہ کلمہ توحید کو دنیا سے نا پید کیا جائے۔یہ تو ہماری پسند ہے لیکن خدا کی پسند اور ہے اور خدا کی پسند یہ ہے کہ کلمہ کی حفاظت میں اپنے نفسوں کو مٹانے والے، اپنے وجود کو ملیا میٹ کرنے والے کبھی دُنیا سے نہیں مٹائے جاتے اور ہمیشہ وہی لوگ مٹائے جاتے ہیں جو خدا کی توحید پر ہاتھ ڈالتے ہیں اور خدا کی توحید کو مٹانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔پس وہ تمہارا مقدر ہے اور یہ ہمارا مقدر ہے۔لیکن پھر بھی ہمارے دلوں میں تمہارے لئے حسرات ہیں اور ہماری یہی دعا ہے کہ اے خدا! جس نے محمد مصطفی میلے کے پاک دل کی دردناک آہوں پر نظر کر کے گناہوں کو ان رحمتوں کے بادلوں میں تبدیل کر دیا تھا جو مردہ بستیوں کی طرف روانہ ہوئے تھے ہواؤں کے دوش پر اور جنہوں نے رحمتوں کی اور زندگی کی بارشیں برسادیں تھیں۔اے خدا! ہم محمد مصطفیٰ کے عاجز غلاموں پر بھی ویسے ہی رحم کی نظر فرما۔ہمارے دل کی آہوں کو بھی ہماری قوم کے لئے رحمتوں کے بادلوں میں تبدیل فرما دے۔اس مردہ بستی کو ہمارے دل کے خون کا ہر قطرہ پھر زندہ کر دے اور سارا ملک کلمہ توحید کے ایسے نعروں سے گونج اٹھے جن کے مقدر میں کبھی مرنا نہ ہواور ہمیشہ پھیلتے چلے جائیں اور تمام دنیا پر یہ آواز غالب آتی چلی جائے خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین۔