خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 392
خطبات طاہر جلد ۴ 392 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء نور کی طرف لے کر آنے والے ہیں ۔ یہ امتیازی صفت ان معنوں میں تو امتیازی صفت ہے کہ تمام بنی نوع انسان میں وہ ایک ہی وجود تھا جس کے سپرد یہ کام کیا گیا تھا یا خدا نے جسے یہ منفرد اہلیت بخشی تھی مگر ان معنوں میں امتیازی نہیں کہ بعد میں ایسے اور لوگ آپ کی غلامی میں پیدا نہیں ہو سکتے یا پیدا نہیں ہوں گے یا مختلف زمانوں میں پیدا نہیں ہوئے جو اس کام کو جاری رکھیں ۔ در حقیقت جو ۔ در حقیقت جس نور کی طرف خدا کا نبی بلاتا ہے اس کے شریک اس کے ساتھ اور بہت سی آوازیں اسے اٹھنے لگتی ہیں اور بہت سے غلام اس کام میں اس ہو جاتے ہیں اور ہر طرف گو یا شمع ہدایت جلنے لگتی ہے۔ چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی یا اس منظر پر نہایت ہی پیارے رنگ میں روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: اصحابی کا لنجوم بايهم اقتديتم اهتديتم۔ کہ میرے صحابہ کو تو دیکھو جو ستاروں کی طرح روشن ہو گئے ۔ انہوں نے میرے نور سے نور پکڑا تو وہ خود بھی ایسے نورانی وجود بن گئے کہ تم ان میں سے جس کے پیچھے چلو گے تمہیں وہ ہمیشہ ہدایت ہی کی طرف لے کر جائیں گے ۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ ان کے رب کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے یہ کام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو سونپا ہے۔ ان کے رب کی طرف سے“ کا جو محاورہ ہے اس کے متعلق عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کا ذکر ہوتا ہے تو ربک کا خطاب ملتا ہے لیکن یہاں بِإِذْنِ رَبِّهِمْ اس لئے فرمایا گیا کہ جو مخاطب ہیں ان کو پابند کیا جائے ، ان کو بتایا جائے کہ یہ تمہارے رب کا حکم ہے تمہیں ماننا پڑے گا۔ یہ ایسا حکم نہیں ہے جس کو صرف حضرت محمد مصطفی ملا ہے کی طرف خاص کیا گیا ہو۔ اگر چہ بلاتا یہ ہے لیکن یاد رکھو کہ تمہارے رب کا حکم ہے اور تم پابند ہو کہ تمہیں ہدایت کی طرف بلائے تو تم اس کی آواز پر لبیک کہو اور اس نور کی طرف چلے آؤ جس کی طرف یہ بلاتا ہے۔ صلى الله پھر ربھم کے مضمون پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا یہ وہی رب ہے جو زمین و آسمان کا رب ہے اور جس کے حکم سے ہٹ کر پھر کوئی پناہ نہیں اور نجات کی کوئی راہ نہیں ۔ فرمایا: وَ وَيْلٌ لِلْكَفِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدِ اگر اس حکم کا انکار کریں گے تو پھر ان کے لئے عذاب