خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 390
خطبات طاہر جلدم 390 خطبه جمعه ۲۶ ر ا پریل ۱۹۸۵ء ان باتوں سے عاری ہو۔تمہارے دامن میں تو سوائے گالیوں کے اور کچھ بھی نہیں ،سوائے جبر اور تشدد کی تلوار کے تمہارے پاس ہے کیا ؟ ہم تو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ حالت میں پاتے ہیں۔ہم تو اپنے وجود کو اس نقشہ کے اندر لکھا ہوا پاتے ہیں اور اپنے نقوش اس نقشہ میں مرتسم پاتے ہیں جو قرآن کریم میں بنایا گیا ، ہم سے زیادہ خوش نصیب اور کون سی قوم ہوسکتی ہے۔اور تم خودان نقوش کو ابھار رہے ہو اور تمام دنیا میں یہ اعلان کر رہے ہو کہ یہ وہ جماعت ہے جس نے تمام دنیا کی فتح کا منصوبہ بنایا ہے اور وہ حمد مصطفی ﷺ کی جماعت کے سوا اور کوئی جماعت ہو ہی نہیں سکتی۔ہم تو اس تقسیم پر راضی ہیں۔تمہارا دل جو چاہتا ہے کرو، جو زورلگتا ہے لگا لو، جتنی طاقتیں سمیٹ سکتے ہو سمیٹ لو اور ساری دنیا میں احمد یتکے خلاف پراپیگنڈا کرو کہ یہ جماعت تم سب کے لئے ایک خطرہ ہے۔مگر ہم اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے سے باز نہیں آئیں گے، ہمارا ایک بھی قدم تمہارے خوف سے پیچھے نہیں ہٹے گا کیونکہ ہم محمد مصطفی ﷺ کے غلام ہیں اور ہم نے آپ کو ہی اپنے آقا اور مولیٰ کے طور پر پکڑا ہوا ہے۔آپ کے دامن کو ہم نے نہیں چھوڑ نا ، آپ کے غلام پیچھے ہٹنے والے غلام نہیں تھے، آپ کے غلاموں کی فطرت کا خمیر اس مٹی سے نہیں اٹھایا گیا جس مٹی میں بزدلی پائی جائے۔پس ہم تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس میدان میں لازماً آگے بڑھیں گے اور ہر میدان میں آگے بڑھتے چلے جائیں گے ، ہر جہت میں آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔ہم اور ہماری آنے والی نسلیں، ہمارے بوڑھے اور ہمارے بچے چین نہیں لیں گے جب تک محمد مصطفی ﷺ کا تاج ظالموں کے سروں سے نوچ کر واپس حضرت محمد مصطفی ﷺ کے حضور پیش نہیں کر دیتے ، وہی ہمارے لئے طمانیت کا وقت ہے ، وہی ہمارے لئے چین اور آرام جاں ہے، اسی کی خاطر ہم مرتے ہیں اور اسی کی خاطر ہم مرتے رہیں گے۔اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ اسلام کا جھنڈا جلد از جلد دنیا کی تمام بڑی سے بڑی سلطنتوں کے بڑے سے بڑے ایوانوں پر لہرایا جائے۔ایک ہی جھنڈا ہو اور الله وہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی عملے کا جھنڈا ہو۔ایک ہی اعلان ہوا اور وہ نعرہ ہائے تکبیر کا اعلان ہو کہ کوئی خدا نہیں سوائے اس خدا کے جو ایک خدا ہے اور کوئی اور رسول باقی نہیں مگر م م م ل ل ا لہجہ آخری صاحب شریعت اور صاحب حکم رسول ہے۔