خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 389 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 389

خطبات طاہر جلد۴ 389 خطبہ جمعہ ۲۶ اپریل ۱۹۸۵ء کرنے کا عزم لے کر جماعت احمد یہ اٹھی یا ان انسانوں کو جن کی تعلیمات کو پارہ پارہ کرنے کا عزم لے کر اٹھی ہے، جنہوں نے خدا کی تعلیم کو رد کر کے نئی انسانی تعلیموں کو نجات دہندہ تعلیم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پھر فرماتے ہیں کہ :۔ ” وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی توحید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں، ملکوں میں پھیلے گی ۔ اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔ اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نورا تارنے سے۔ تب یہ باتیں جو میں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی ۔“ 66 مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۳۰۵) پس یہ ہے جماعت احمدیہ کا عالمی فتح کا پروگرام اور منصوبہ جسے تم سازش کہہ رہے ہو اور یہ پروگرام جماعت احمدیہ نے آج سے نہیں بلکہ تمہارے اپنے قول کے مطابق نوے سال سے زائد عرصہ سے شروع کر رکھا ہے ، ایک ملک میں نہیں دنیا کے ہر ملک میں شروع کر رکھا ہے اور یہ وہ پروگرام ہے جس کا بیچ قرآن کریم میں بویا گیا بلکہ یہ تو وہ پروگرام ہے جو انسانی پیدائش بلکہ کائنات کے وجود سے پہلے ہی جب حضرت محمد مصطفی اللہ کی تخلیق کا فیصلہ فرمایا گیا اس وقت یہ پروگرام بھی ساتھ ہی منصہ شہود پر ابھرا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ محمد مصطفی کی تخلیق کا سوال پیدا ہوا اور کائنات کی فتح کا منصوبہ ساتھ ہ تعمیر نہ کیا جائے ۔ یہ دو باتیں الگ الگ ہو ہی نہیں سکتیں ۔ پس قرآن کریم نے جب یہ وعدہ فرمایا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کو میں نے ( یعنی خدا نے ) اس لئے مبعوث فرمایا ہے کہ دنیا کے تمام دینوں پر اس کے دین کو یا اس کو غالب کر دے تو یہ منصوبہ تو بن چکا ہے اور ہم اس منصوبہ کو پورا کرنے میں اپنے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ تمہیں توفیق نہیں مل رہی کہ اس منصوبے کے لئے کوئی کام کر وہ تمہیں یہ توفیق نصیب نہیں ہو رہی کہ اسلام کے غلبہ کے لئے ہماری طرح قربانیاں دو، اپنی جان مال اور عزتیں پیش کرو، زندگیاں وقف کرو، اسلام اور دیگر مذاہب پر غور وفکر کرتے ہوئے نئے نئے نکات لے کر آؤ ، نئے دلائل پیش کرو، نئے براہین سے دنیا کا مقابلہ کرو اور ان کو فتح کر ولیکن تم تو صلى عروسه