خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 32 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 32

خطبات طاہر جلد ۴ 32 خطبه جمعه ۱۱ جنوری ۱۹۸۵ء ذلیل اور رسوا کرنا چاہتے ہو۔ ایک نئی قوم ہے جسے اللہ تعالیٰ فتوحات پر فتوحات عطا فرماتا ہے۔ اس لئے اپنی عاقبت کا فکر کرد بجائے اس کے کہ ہماری عاقبت کے بارہ میں پریشان ہو۔ مورخین کہتے ہیں کہ یہ جواب سن کے غصہ سے کچھ دیر تو وہ کانپتا رہا اور اپنے ہونٹ چباتا رہا اور کوئی جواب نہیں نکلتا تھا غصہ کی شدت کے نتیجہ میں ۔ آخر اس نے اپنے ایک ملازم کو کہا کہ مٹی کی ایک ٹوکری بھر کے لاؤ اور جب مٹی کی ٹوکری دربار میں پہنچی تو اس نے ان کو مخاطب کر کے یہ کہا کہ سنو! اپنے امیر سے یا جو بھی اس کو تم کہتے ہو اسکو جا کر میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر تاریخ ایران اس بات کی مانع نہ ہوتی اور میرے آباؤ اجداد کی عزت کا سوال نہ ہوتا جنہوں نے کبھی کسی سفیر کو قتل نہیں کیا تو میں ان سب کو قتل کروا دیتا لیکن چونکہ مجھے اپنے آباؤ اجد نے آباؤ اجداد کی روایات کی عظمت کا احترام ہے اس لئے میں یہ فعل نہیں کروں گا لیکن تمہارے مقدر میں اس مٹی کے سوا اور کچھ نہیں ہے جو تمہیں میں بھجوا رہا ہوں اور جہاں تک تمہارے انجام کا تعلق ہے اس کے بعد کیا ہونے والا ہے تو میں رستم کو تمہاری سرکوبی کے لئے بھجواؤنگا اور وہ تم سب کو قادسیہ کی خندق میں دفن کرے گا اور عرب کی سرز مین کو سابور کی طرح پامال کر دے گا اور وہاں سے زندگی کا نام ونشان مٹا دے گا۔ یہ میرا جواب ہے تم یہ جواب لے کر روانہ ہو جاؤ۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ عمرو بن معدیکرب نے اس ٹوکرے سے مٹی اپنی چادر میں اُلٹ دی تا کہ آسانی کے ساتھ پھر اس سے سفر ہو سکے اور وہ مٹی لے کر نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوئے اور یہ کہتے چلے گئے کہ الحمد للہ کہ کسری نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی سرزمین ہمارے سپرد کر دی ہے۔ پہلے تو کسری کو بڑا تعجب ہوا کہ یہ پاگل کیسے ہیں اور اس نے یہی کہا رستم کو مخاطب کر کے کہ میں نے عربوں سے زیادہ وحشی اور پاگل لوگ کبھی نہیں دیکھے ۔ اتنا ذلیل ورسوا کر کے سر میں خاک ڈال کے میں ان کو بھجوا رہا ہوں اور یہ نعرے مارتے ہوئے اس طرح جارہے ہیں جیسے ملک فتح کر لیا ہو۔ کیونکہ وہ مشرک لوگ تھے اور تو ہم پرست بھی تھے ، رستم نے اس کو سمجھایا کہ بادشاہ! یہ بات نہیں ہے۔ وہ تو ایک اور فال نکال گئے ہیں اور وہ فال یہ نکالی ہے کہ تم نے اپنے ہاتھ سے اپنے ملک کی مٹی اُن کے سپرد کر دی ہے اپنی سرزمین ان کے حوالے کر دی ہے۔ اس بات پر وہ خوش ہو کر جا رہے ہیں ، میں تو اُن کو بڑا زیرک پاتا ہوں۔ بعض روایتوں میں آتا ہے اس پر اس نے اُن کے پیچھے آدمی دوڑائے لیکن وہ سر پٹ گھوڑے اُن کے قابونہ آئے اور وہ نکل ۔ چکے تھے۔ تو بسا اوقات جہالت میں ایک آدمی