خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 379
خطبات طاہر جلدم 379 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۸۵ء جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے۔ہم تو اپنے اوپر ان دونوں حالتوں کو اس طرح طاری کر چکے ہیں کہ ہم میں سے ہرا دنی احمدی یعنی جو کم سے کم مقام پر بھی فائز ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہے اور ہر قربانی پیش کرتا چلا جارہا ہے اور یہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے کتنوں کے دین تم بدلوا چکے ہو؟ کتنوں کے کلے تم نے ان کے سینوں سے نوچے ہیں، کتنوں کو قید کی مصیبت میں مبتلا کیا، کتنوں کے خون بہائے لیکن دیکھو ! خدا کے یہ عاجز بندے کس شان کے ساتھ قرآن کریم کے بیان کردہ اس مقام سے چھٹے ہوئے ہیں اور ایک ظالم اور جابر بادشاہ کی تلوار کے نیچے بھی لا اله الا اللہ کے اظہار سے باز نہیں آرہے اور نہ کبھی آئیں گے۔پس یہ تو ایک ادنی کی حالت ہے پھر انہی میں سے وہ اعلیٰ بھی پیدا ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے جنہیں خدامریکی حالتیں بھی عطا فرمائے گا اور پھر ان کے وجودوں سے نئے وجود بھی پیدا ہوتے رہیں گے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ بھی صاحب کشف والہام بزرگ ایسے تھے جنہوں نے اس عارفانہ نکتہ کو پایا۔وہی حقیقت میں تعلق باللہ رکھنے والے لوگ تھے ان میں سے ایک حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں وہ اپنے مقالات میں سے چھبیسویں مقالہ میں لکھتے ہیں: لا تكشف البرقع والقناع عن وجهک کہ تو اپنے چہرہ پر برقع اور قناع نہ اتار۔اب یہ دونوں چیزیں عورت کا لباس ہیں پھر یہ کیا قصہ کیا ہے کہ حضرت سید عبد القادر جیلانی یہ فرما رہے ہیں کہ اے مخاطب ! تو اپنے چہرہ سے برقع اور قناع نہ اتار۔اس کی تشریح میں شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ : برقع اور قناع کی تعبیر یہ ہے کہ یہ عورت کا لباس ہے اور اس میں اشارہ ہے کہ ظہور کمال تک مرد بھی بمنزلہ عورت کے ہوتا ہے اور اس کا دعویٰ 66 مردانگی درست نہیں۔“ (فتوح الغیب از سید عبد القادر جیلانی مع فارسی ترجمه از عبدالحق دہلوی مقالہ نمبر ۲۶ صفحه ۱۱۹) پس پہلی حالت جس میں ایک پاگیزگی تو موجود ہے لیکن اس پاکیزگی نے ایک نئے وجود کو