خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 375
خطبات طاہر جلدم کا ایک انسان ہے۔375 خطبه جمعه ۲۶ ر ا پریل ۱۹۸۵ء اس اعتراض میں پہلی بات تو قابل غور یہ ہے کہ اگر اسی قسم کا انسان ہے تو پھر اس اسلام یا پاکستان کو کیسے خطرہ لاحق ہو گیا۔ایسے ہزاروں لاکھوں دیوانے دنیا میں پھرتے ہیں اور کبھی کسی معقول انسان نے یا کسی قوم نے ان کو اپنے لئے خطرہ تصور نہیں کیا پس تمہارا جھوٹ تو اس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ ایک طرف تو ایک دیوانے ، ایک مرگی کے مریض اور ایک مخبوط الحواس کے طور پر اس شخص کو پیش کر رہے ہو اور دوسری طرف سرکاری رسالہ میں اس شخص پر عنوان یہ لگا ر ہے ہو کہ وہ تمام عالم اسلام کے لئے ایک انتہائی سنگین خطرہ ہے۔یہ بعینہ اسی قسم کی بات ہے جیسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو ایک طرف ظالم لوگ مجنون کہتے تھے اور ساحر کہتے تھے اور دوسری طرف تمام دنیا کے لئے خطرہ سمجھ رہے تھے اور صرف ایک سو سال نہیں سینکڑوں سال تک آپ کو ایک خطرہ کے طور پر سمجھا گیا اور پھر اسی فرضی خطرہ کے مقابل پر اس قسم کے جھوٹے فساد کھڑے کر کے اسلام کو دبانے کی کوشش کی گئی۔تمام عیسائی لٹریچر اس فرضی اور گندے مقابلے سے بھرا پڑا ہے۔فرضی خطرہ ان معنوں میں کہ انسانیت کے لئے آپ کوئی خطرہ نہیں تھے۔فرضی خطرہ ان معنوں میں کہ کسی خوبی کے لئے آپ کوئی خطرہ نہیں تھے اگر خطرہ تھے تو درحقیقت ہر فساد، ہر گندگی ، ہر جھوٹ اور باطل کے لئے تھے۔پس ان معنوں میں یہ بات درست ہے کہ اس سے جھوٹ ،فساد اور باطل کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا لیکن اس رسالہ میں یہ نہیں لکھا گیا۔لکھا تو یہ گیا ہے کہ گویا ہر خوبی اسلام کے لئے خطرہ ہے اور یہ بھی بالکل جھوٹ اور بے معنی بات ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ اعتراض خود اپنے ہی وجود کو کھا رہا ہے کیونکہ ایک مجذوب انسان، ایک پاگل انسان تو سوائے اپنی ذات کے اور کسی کے لئے بھی کوئی خطرہ نہیں ہوا کرتا۔بہر حال جس آیت کو نظر انداز کیا گیا ہے اس کی رو سے تو اب انہیں دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور اپنے لئے اختیار کرنی پڑے گی ورنہ جن کو دائرہ اسلام اور دائرہ ایمان سے نکالتے ہیں ان کی بجائے اب خود انہیں ایمان اور دائرہ اسلام سے نکلنا پڑے گا اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک ایسے موقع پر آکر حملہ کیا ہے کہ اب قرآن کی تلوار ان کو جواب دے گی اور قرآن کی تلوار ان کو کاٹے گی جو اتنی قوی ہے کہ اسے فرقان کہا جاتا ہے اور پھر اس کی زد سے کوئی