خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 374

خطبات طاہر جلدم 374 خطبه جمعه ۲۶ ر ا پریل ۱۹۸۵ء ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس نے اس کلام کی جو اس کے رب نے اس پر نازل کیا تھا تصدیق کی اور وہ اس کی کتابوں پر بھی ایمان لائی اور اس نے فرمانبرداروں کا مقام حاصل کر لیا۔یہ وہ آیت کریمہ ہے جسے پاکستان کے مزعومہ قرطاس ابیض کے مصنف یا مصنفین نے نظر انداز کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک عجیب اعتراض اٹھایا ہے۔ویسے تو جتنے بھی اعتراضات ہیں وہ تمام تر قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت کریمہ یا تعلیم کو نظر انداز کر کے اٹھائے گئے ہیں لیکن یہ آیت کریمہ بطور خاص کھلے لفظوں میں وہ بات بیان کر رہی تھی جس سے لاعلمی کے نتیجہ میں یا عمداً آنکھیں بند کر کے اس اعتراض کو اٹھا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر تم ا پر تمسخر کیا گیا۔چنانچہ ایک اعتراض یہ کیا گیا جس کا عنوان ہے " بعض دلچسپ اور عجیب و غریب تاویلات اس عنوان کے تحت اس رسالہ میں لکھا کہ : وو مرزا صاحب اپنے مسیح ابن مریم ہونے کی عجیب وغریب تاویل کرتے ہیں جس میں پہلے وہ اپنے آپ کو مریم تصور کرتے اور پھر حضرت عیسیٰ کی روح اپنے اندر پھونکے جانے کا ماجرا بیان کرتے ہیں۔“ ( قادیانیت اسلام کے لئے سنگین خطرہ اسلام آباد۔مطبوعات پاکستان ۱۹۸۴ صفحه ۲۴) یہ جو تمسخر کا رنگ اختیار کیا گیا ہے یہ اسی قسم کا ہے جو ہمیشہ سے تمام انبیاء کے خلاف اختیار کیا جاتا رہا ہے۔پھر اسی پر بس نہیں۔ان کے بعض علماء اس میں اور بھی رنگ بھرتے ہیں اور چسکے لے کر اس بات کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا (نعوذ بالله من ذالک ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عملاً اور فعلاً اس بات کے قائل تھے کہ آپ کو حمل ٹھہرا ، آپ کے پیٹ میں ایک بچہ بنا اور گویا کہ وہی بچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود ہیں۔تو اس رنگ میں تکذیب و تمسخر کے طور پر یہ اعتراض کیا جاتارہا ہے اور اب بھی کیا جاتا ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ عبارت رکھی گئی ہے اور پاکستان اور باہر کی دنیا جو ان باتوں سے بے خبر ہے ان پر یہ تاثر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک ایک مخبوط الحواس انسان تھا ایک ایسا شخص جس کی دماغی حالت کا نمونہ یہ ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو مرد ہونے کے باوجود عورت بتاتا ہے اور وہ بھی مریم اور پھر حمل ٹھہراتا ہے اور کہتا ہے کہ بچہ پیدا ہو گیا۔جس طرح دیوانے اور مخبوط الحواس لوگ اس قسم کی باتیں سوچا کرتے ہیں اسی قسم