خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 373 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 373

خطبات طاہر جلدم 373 خطبه جمعه ۲۶ اپریل ۱۹۸۵ء اسلام کی عالمگیر روحانی ترقی کا عظیم الشان منصوبہ ، اسے سازش کا نام دینا اسلام دشمنی کے مترادف ہے ( خطبه جمعه فرموده ۲۶ را پریل ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد درج ذیل قرآنی آیات تلاوت کیں: وَضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَاتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَحْنِى مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ الَّتِى اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَنِتِينَ (التحریم: ۱۲ ۱۳) اور پھر فرمایا: قرآن کریم کی جو آیات میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی مومنوں کی حالت یا مومنوں کی مثال فرعون کی بیوی کی مانند بیان کرتا ہے جبکہ اس نے اپنے رب سے کہا کہ اے خدا! تو جنت میں اپنے پاس ایک گھر میرے لئے بھی بنادے اور مجھے فرعون اور اس کی بداعمالیوں سے نجات عطا فرما اور اسی طرح اس کی ظالم قوم سے بھی نجات بخش۔پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کی مثال مریم کی سی بیان فرماتا ہے جو عمران کی بیٹی تھی جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی اور