خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 31
خطبات طاہر جلدم 31 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۸۵ء عنہ کی خدمت میں بھجوائی تو حضرت عمر نے جوابا یہ فرمایا کہ تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔تم ایک وفد بھجواؤ اس بادشاہ کے دربار میں اور اس کو ساری صورت حال سے آگاہ کرو اور بتاؤ کہ اسلام یہ چاہتا ہے اور جبر جب اسلام کو مٹانے کی کوشش کی گئی تو ہم نے خدا تعالیٰ کی اجازت سے جوابی کارروائی کی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان علاقوں پر فتوحات عطا فرمائی ہیں اس لئے اسلام ایک امن کا مذہب ہے، خدا کی تو حید کا علمبر دار مذہب ہے، تمہیں بے وجہ اس سے دشمنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔بہر حال وہ وفد بھجوایا گیا جس میں ایک روایت کے مطابق عاصم بن عمرو اس کے سر براہ تھے اور اُن کے ساتھ نعمان بن مقرن اور اشعث بن قیس اور قیس بن زرارہ اور عمرو بن معدیکرب وغیرہ یہ سب اس وفد میں شامل تھے۔کسری کے دربار میں جب یہ وفد پہنچا اور گفت و شنید شروع ہوئی تو شروع میں کسری ، یزدگرد نے بہت ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی اور کہا کہ تمہارا بد انجام ہوگا اسی طرح ہوگا جس طرح اس سے پہلے عرب کے جاہل قبائل کا ہوتا رہا ہے اور تمہیں اپنی تاریخ سے واقفیت ہو گی کس طرح بار بار ہم سے پہلے کسراؤں نے ایسے جاہل باغیوں کو شدید سزائیں دیں ہیں تم تو اپنی عاقبت کا فکر اور ہوش کرو اور ان باتوں سے باز آجاؤ اور ہم تمہیں اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ تم پر ہم ایک نرم دل بادشاہ مقرر کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔اگر تم ہماری شرطیں مانتے ہو تو ہم ایک نرم دل بادشاہ تمہیں دیں گے جو تمہارا ہر طرح سے خیال رکھے گا اور اگر تم بھوکے ہو تو ہم تمہیں روزی کا سامان بھی مہیا کر دیتے ہیں اگر تم نگے ہو تو ہم تمہیں کپڑے دے دیں گے لیکن یہ جو سلطنت بنالی ہے اسلام کے نام پر اس کا خیال دل سے مٹا دو۔یہ سلطنت اب ہمارے دامن میں نہیں رہ سکتی۔جواب میں ان میں سے ایک نمائندے نے کہا، عاصم بن عمرو تو نہیں تھے وہ ایک دوسرے نمائندہ تھے، قیس بن زرارہ۔انہوں نے اجازت لی کہ میں جواب دیتا ہوں انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ ہم تو یہ پاک دین رکھتے ہیں اور تم نے جو باتیں بھی اہل عرب کے متعلق بیان کی ہیں ان سب کو درست تسلیم کرتے ہیں۔لیکن وہ زمانے گئے جس زمانے میں عرب جاہل اور بدو ہوا کرتے تھے اور ہوائے نفس کی خاطر لڑا کرتے تھے۔اب تو ایک عظیم روحانی انقلاب آچکا ہے اب ہم وہ لوگ نہیں رہے اس لئے تم ہوش کرو اور سمجھو کہ کن لوگوں سے مخاطب ہواب تو ہم میں خدا کا ایک ایسا پیغمبر ظاہر ہو چکا ہے جس نے ہماری کایا پلٹ دی ہے۔اس لئے ہم وہ قوم نہیں ہیں جس کو تم سمجھ کے آج