خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 30

خطبات طاہر جلدم 30 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۸۵ء اور احمد یہ گھروں سے کلے مٹا رہے ہیں بلکہ اب تو دکانوں پر بھی کہیں کلمہ لکھا ہوا نظر آجائے تو حکومت کے کارندے پہنچ جاتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں ہمیں ہمارے خدا کا یہ حکم ہے کہ کلے کو مٹا کے چھوڑو۔کہتے تو نہیں ہیں کہ ہمارے خدا کا حکم ہے لیکن یہ کہتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں۔ہم اپنی روزی سے مجبور ہیں۔ہمیں ہمارے سر براہ حکومت کا حکم ہے کہ کلمہ مٹا کے رہو۔دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تمہارا رازق خدا ہوگا لیکن ہمارا رازق تو یہ سربراہ حکومت ہے جس کے حکم سے ہم سرمو بھی انحراف نہیں کر سکتے اگر ہمیں کلمہ مٹانے کے لئے بھی کہے گا تو ہم کلمہ مٹائیں گے لیکن بہر حال اس حکومت کی اطاعت سے باہر نہیں جائیں گے۔یہ عجیب فیصلہ ہے، نہایت ہی بد قسمتی کا فیصلہ ہے لیکن بہر حال یہی فیصلہ ہے جوا کثر جگہ ہورہا ہے۔بہت کم ایسے واقعات آرہے ہیں نظر کے سامنے جہاں بالآخر حکومت کے کارندے نے کھلم کھلا اعلان کر دیا کہ ٹھیک ہے اگر یہی بات ہے تو پھر جو چاہے حکومت کر لے ہم واپس جا رہے ہیں ہم اس کلمہ کو نہیں مٹائیں گے کسی اور کو بھجوا دو اور ہمیں فارغ کر دو۔ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں پاکستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ لیکن ایسے واقعات تھوڑے ہیں۔زیادہ تر تعداد بہت بڑی تعداد میں حکومت کے کارندے کلمہ مٹانے کو برا سمجھتے ہوئے ، جانتے ہوئے کہ ایک نہایت مکروہ فعل ہے، نہایت ہی شیطانی فعل ہے، مشرکانہ فعل ہے پھر بھی وہ حکومت کے دباؤ کی مجبوری سے یا اپنے رزق کی فرضی حفاظت کے لئے وہ اس بد عمل پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور یہ عجیب حکومت ہے کہ جو بظاہر یہ کہہ رہی ہے کہ مشرکوں کی یہاں جگہ نہیں مگر ساری قوم کو مشرک بنا رہی ہے۔جب یہ صورتِ حا ہو کہ سر براہ حکومت کے حکم کے نتیجہ میں انسان کلمہ توحید کو بھی مٹانے پر مجبور ہو جائے تو اس سے بڑا شرک اور کیا ہوسکتا ہے۔جب ان باتوں کی طرف نگاہ جاتی ہے تو تاریخ اسلام کا ایک بڑا ہی عجیب واقعہ نظر کے سامنے آجاتا ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ جب ایران کی حکومت نے بہت بڑ الشکر تیار کرنا شروع کیا تا کہ وہ عرب پر حملہ کر کے اسلام کو وہاں سے نیست و نابود کر دے اور یزدگرد جو بادشاہ تھا اس وقت کا کسری اس نے رستم کے سپرد یہ کام کیا۔وہی رستم جو اپنی پہلوانی میں ضرب المثل بن چکا ہے۔اور بہت بڑا لشکر تیار کیا جارہا تھا۔اس بات کی اطلاع جب حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ