خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 359 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 359

خطبات طاہر جلدم 359 خطبه جمعه ۱۹ ر اپریل ۱۹۸۵ء اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قطع نظر اس کے کہ احمدیوں اور غیر احمد یوں میں سے پہلے کس نے کس کو کیا کہا دیکھنا یہ ہے کہ اس کا طبعی اور منطقی نتیجہ جو پاکستان کی حکومت نے نکالا ہے اگر وہ اس بات میں متقی ہیں اور واقع میں اس کے سوا کوئی اور نتیجہ نکالنا ان کے لئے ممکن نہیں ہے تو پھر اس مسلک پر قائم رہ ہیں۔پھر تو دلیل یہ بنتی ہے کہ جو شخص خود دوسرے کو کا فرکہہ دے اور اس سے تعلقات منقطع کر لے اس شخص کے متعلق یا اس مذہب کے متعلق یا اس فرقے کے متعلق حکومت پاکستان کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ اسے کلیتہ غیر مسلم قرار دے دے اور اس کو تمام اسلامی حقوق سے محروم کر دے۔ہمارے متعلق ایک طبعی اور منطقی دلیل جو بنائی گئی ہے اگر یہ دلیل درست ہے تو پھر ان لوگوں کے متعلق کیا خیال ہے جنہوں نے ایک دوسرے کے خلاف فتوے دے رکھے ہیں ان فتاوی میں سے میں چند ایک فتوے آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں۔سب سے پہلے بریلویوں کا فتویٰ سنئے۔بریلوی صرف ہمارے خلاف ہی نہیں بلکہ ان لو گوں کے بھی خلاف ہیں جو آج اس حکومت کے سب سے زیادہ لاڈلے اور منہ چڑھے ہیں یعنی وہابی اور دیوبندی۔چنانچہ بریلوی علماء میں سے چوٹی کے علماء کا فتویٰ ہے کسی عام عالم کا فتویٰ نہیں۔بڑا لمبافتویٰ ہے میں اسے مختلف ٹکڑوں میں بیان کرتا ہوں۔لکھا ہے: وہابیہ دیو بند یہ اپنی عبارتوں میں تمام اولیاء انبیاء حتی کہ حضرت سید الا ولین و آخرین عمل کی اور خاص ذات باری تعالیٰ شانہ کی اہانت و ہتک کرنے کی وجہ سے قطعاً مرتد و کافر ہیں اور ان کا ارتداد و کفر سخت سخت سخت اشد درجہ تک پہنچ چکا ہے ایسا کہ جوان مرتدوں اور کافروں کے ارتداد و کفر میں ذرا بھی شک کرے وہ بھی انہیں جیسا مرتد اور کافر ہے۔“ (وہابیہ دیو بند یہ عقائد والوں کی نسبت تین سو علماء اہل السنۃ والجماعت کا متفقہ فتوی المعلن محمد ابراہیم بھا گلپوری صفحه ۶۳) اب حکومت پاکستان کے لئے کون سی راہ باقی رہ گئی ہے اگر ان کے کفر پر ذرا سا بھی شک کریں تو آپ خود دائرہ اسلام سے باہر چلے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود نہ دیو بندیوں وہابیوں پر حکومت فتوے لگا رہی ہے اور نہ ان پر لگا رہی ہے جو فتوی دے رہے ہیں۔ذرا فتویٰ کی تفصیلات سنئے۔تعلقات منقطع کرنے کا الزام جماعت احمدیہ پر لگاتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے فتوے کی بناء پر