خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 358

خطبات طاہر جلدم 358 خطبه جمعه ۱۹ / اپریل ۱۹۸۵ء ہم کسی کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے جب تک کہ وہ ہمیں کافر کہہ کر خود کا فرنہ بن جائے۔آپ کو شاید معلوم نہ ہو جب میں نے مامور ہونے کا دعویٰ کیا تو اس کے بعد بٹالہ کے محمد حسین مولوی ابوسعید صاحب نے بڑی محنت سے ایک فتویٰ تیار کیا۔جس میں لکھا تھا کہ یہ شخص کا فر ہے، دجال ہے ضال ہے اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے، جو ان سے السلام علیکم کرے یا مصافحہ یا انہیں مسلمان کہے وہ بھی کا فراب سنو یہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جو مومن کو کافر کہے وہ کا فر ہو جاتا ہے۔پس اس مسئلہ سے ہم کس طرح انکار کر سکتے ہیں آپ لوگ خود ہی کہہ دیں کہ ان حالات کے ماتحت ہمارے لئے کیا راہ ہے ہم نے ان پر پہلے کوئی فتویٰ نہیں دیا۔اب جو انہیں کا فر کہا جاتا ہے تو یہ انہیں کے کا فر بنانے کا نتیجہ ہے۔ایک شخص نے ہم سے مباہلہ کی درخواست کی ہم نے کہا کہ دو مسلمانوں میں مباہلہ جائز نہیں۔“ غور سے سنئے اس بات کو یعنی ان تمام فتادی کے با وجو د جن کی زبان نہایت کریہہ اور گندی ہے مغلظات سے پر ہے ان کو فتوی کہا ہی نہیں جا سکتا مگر ان کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا صبر و حمل اور ہمت و حوصلہ دیکھیں فرماتے ہیں میں نے ان کو جواب دیا کہ دو مسلمانوں کے مابین مباہلہ جائز نہیں مگر : ”اس نے جواب لکھا کہ ہم تو تجھے پکا کا فر سمجھتے ہیں“ اس شخص نے عرض کیا جس نے یہ پہلا سوال کیا تھا جس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ وہ آپ کو کافر کہتے ہیں تو کہیں لیکن اگر آپ نہ کہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ یعنی باوجود اس کے کہ اس بات کو پوری طرح سمجھا چکے ہیں کہ دیکھو یہ تم سب کا اپنا فتویٰ ہے پھر بھی سوال پوچھنے والا اصرار کرتا چلا گیا کہ اس میں کیا حرج ہے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا: ” جو ہمیں کا فرنہیں کہتا ہم اسے ہر گز کا فرنہیں کہتے لیکن جو ہمیں کا فر کہتا ہے اسے کا فر نہ سمجھیں تو اس میں حدیث اور متفق علیہ مسئلہ کی مخالفت لازم آتی ہے اور یہ ہم سے نہیں ہوسکتا۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۶۳۵ - ۶۳۶)