خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 344 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 344

خطبات طاہر جلدم 344 خطبه جمعه ۱۲ برابریل ۱۹۸۵ء ”ہندو اور عیسائی مذہبوں کا مقابلہ مرزا صاحب نے نہایت قابلیت کے ساتھ کیا ہے آپ کی تصانیف ”سرمہ چشم آریہ اور چشمہ مسیحی وغیرہ آریہ سماجیوں اور مسیحیوں کے خلاف نہایت اچھی کتابیں لکھی ہیں۔“ یہ تحریر و "پھپھی ہے مگر بہر حال تعریف درست ہے۔( زمیندار ۱۲ ستمبر ۱۹۲۳ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ قوت کہاں سے ملی بڑے بڑے عالم موجود تھے بڑے بڑے زبان دان تھے جنہوں نے بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں تعلیمات حاصل کی تھیں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو گھر میں دیہات کے عام استادوں سے کچھ دوحرف لکھنے پڑھنے سیکھے تھے پھر کہاں سے یہ قابلیت اور غیر معمولی قوت اور شوکت پیدا ہوئی۔یہ سوال جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس قابلیت میں سے ایک ذرہ بھی اپنی طرف منسوب نہیں فرماتے۔کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ: میں تھا غریب و بیکس و گمنام و بے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر ( در نشین صفحه ۱۱۷ - محاسن قرآن کریم ) اس میں میرا تو کچھ بھی دخل نہیں میرا خدا ہے جو مجھے قوت بخش رہا ہے وہی ہے جس نے مجھے بھیجا ہے وہی میری زبان پر معارف جاری کرتا ہے ، وہی میرے قلم میں عظیم قو تیں عطا کرتا ہے اور ایسے معارف اسی سے بہتے ہیں جیسے قلزم کے معارف سے ان کا واسطہ ہو اور وہ اس سے موتی نکالتا چلا جاتا ہے، نکالتا چلا جاتا ہے۔یہ ہے نقشہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے متعلق ہے کہ میں کچھ بھی نہیں ، میری ذات کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔میری تعلیم بھی کچھ نہیں ہے تم اگر میری تعلیم یا میری ذات پر ہنستے ہو تو جو چا ہو کر ولیکن جس قادر مطلق ، خالق کا ئنات کے ساتھ میراتعلق ہے اس پر ہنسنے کی کیسے جرات کرو گے۔پس میری یہ تحریریں اور یہ کلام اس بات کا ثبوت ہے کہ میرا تعلق سرچشمه عرفان سے ہے۔آپ فرماتے ہیں: میں بڑے دعوئی اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں اور