خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 343
خطبات طاہر جلد ۴ 343 خطبہ جمعہ ۱۲ را پریل ۱۹۸۵ء سید ممتاز علی صاحب تہذیب نسواں“ (لاہور) میں لکھتے ہیں: وو مرزا صاحب مرحوم نہایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دلوں کو تسخیر کر لیتی تھی ۔ وہ نہایت با خبر عالم بلند ہمت مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے ہم انہیں مذہبا مسیح موعود تو نہیں مانتے تھے لیکن ان کی ہدایت اور راہنمائی مردہ روحوں کے لئے واقعی مسیحائی تھی۔“ 6 ( بحوالہ تشحید الاذہان جلد ۳ نمبر ۱۰ صفحه ۳۸۳-۱۹۰۸ء) صادق الاخبار‘ ریواڑی بہاولپور لکھتا ہے : مرزا صاحب نے اپنی پر زور تقریروں اور شاندار تصانیف سے مخالفین اسلام کو ان کے لچر اعتراضات کے دندان شکن جواب دے کر ہمیشہ کے لئے ساکت کر دیا ہے ۔ اور کر دکھایا ہے کہ حق حق ہی ہے اور واقعی مرزا صاحب نے حق حمایت اسلام کا کما حقہ ، ادا کر کے خدمت دین اسلام میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔ انصاف متقاضی ہے کہ ایسے اولوالعزم حامی اسلام اور معین المسلمین فاضل اجل عالم بے بدل کی ناگہانی اور بے وقت موت پر افسوس کیا جائے ۔“ ( بحوالة تشحیذ الاذہان جلد ۳ صفحه ۳۸۲ - ۱۹۰۸ء) خواجہ حسن نظامی صاحب مشہور و معروف لکھنے والے ہیں اور ایسے اردو دان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو سارے ہندوستان میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور پھر احمدیت کے مؤید بھی نہیں تھے بلکہ مخالف تھے۔ وہ لکھتے ہیں : وو مرزا غلام احمد صاحب اپنے وقت کے بہت بڑے فاضل بزرگ تھے۔ آپ کی تصانیف ۔۔۔۔۔۔ کے مطالعہ اور آپ کے ملفوظات کے پڑھنے سے بہت فائدہ پہنچ رہا ہے اور ہم آپ کے تبحر علمی اور فضیلت و کمال کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔“ اخبار ” منادی ۲۷ فروری ۴۰ مارچ ۱۹۳۰ء ) مولوی ظفر علی خان صاحب جیسے مخالف احمدیت شخص کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں میں ایک عجیب قوت تھی وہ لکھتے ہیں :