خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 342 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 342

خطبات طاہر جلد ۴ 342 خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۸۵ء یہ صرف جہالت ہی نہیں واضح جھوٹ بھی ہے اور جانتے بوجھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کلیہ بہتان تراشی سے کام لیا جا رہا ہے ۔ اگر ایسا نہیں تو پھر ان اعتراض کرنے والوں نے آپ کی کوئی کتاب ہی نہیں پڑھی اور گھر بیٹھے ایک عبارت لکھ رہے ہیں جو سوائے دجل کے اور کوئی بھی مقام نہیں رکھتی ۔ اب سنئے ! کون گالیاں دیا کرتا تھا ( کچھ مثالیں میں بعد میں بھی دونگا ) مرزا حیرت دہلوی صاحب مناظرہ کے رنگ بتا رہے ہیں کہ وہ کیا تھے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے منصہ شہود پر کیا ابھر رہا تھا اور مخالفین کی طرف سے کیا حربے استعمال ہور ہے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ان کا جواب الجواب ہم نے تو نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ آریہ نہایت بد تہذیبی سے اسے یا پیشوایان اسلام یا اصول اسلام کو گالیاں دیں ۔ مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ سارے ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں ۔“ 66 وہ گالیاں دے رہے تھے اور اسلام کی مدافعت کرنے والے اس بطل جلیل کے بارے میں مرزا حیرت دہلوی کہتے ہیں کہ اسے گالیاں دینے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ ” اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ سارے ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں ایک پر جذ بہ اور قوی الفاظ کا انبار اس کے دماغ میں بھرا رہتا تھا اور جب وہ لکھنے بیٹھتا تو بچے تلے الفاظ کی ایسی آمد ہوتی کہ بیان سے باہر ہے ۔ مولوی نورالدین مرحوم خلیفہ اول سے جو ناواقف ہیں وہ تو اپنی غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کتابوں میں مولوی نورالدین صاحب نے بہت مدد دی ہے مگر ہم اپنی ذاتی واقفیت سے کہتے ہیں کہ حکیم نورالدین مرحوم مرزا کے مقابلہ میں چند سطریں بھی نہیں لکھ سکتا۔ اگرچہ مرحوم کے اردو علم و ادب میں بعض بعض مقامات پر پنجابی رنگ اپنا جلوہ دکھا دیتا ہے تو بھی اس کا پرز اس کا پر زور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالہ ہے اور واقعی اس کی بعض بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے ۔“