خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 332
خطبات طاہر جلدم 332 خطبه جمعه ۱۲ ر اپریل ۱۹۸۵ء لئے ہل چلاتے ہیں اور کھیتیاں اگاتے ہیں۔جن کی کھالیں ہم ہمیشہ کپڑوں کے لئے استعمال کرتے رہتے ہیں اور جن کے بالوں سے آج بھی کپڑے بنتے ہیں اور پھر ذبح کر کے ان کا گوشت بھی کھاتے ہیں کوئی اور جانور ایسا ہے جس سے انسان کے اتنے فوائد وابستہ ہوں۔تمام دنیا میں نظر دوڑا کر دیکھ لیں۔تمام جانوروں کی قسموں نے مل کر بنی نوع انسان کو اتنے فوائد نہیں پہنچائے جتنے ان دودھ دینے والے جانوروں نے جن کو انعام کہا جاتا ہے۔پھر ان پر سواریاں بھی ہوتی ہیں الغرض بنی نوع انسان کا وہ کون سا فائدہ ہے جس کے لئے ان جانوروں کو استعمال نہیں کیا جاتا ان کے ساتھ خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے فوائد وابستہ نہیں فرمائے۔اب رسولوں پر نظر ڈالیں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء آئے مگر ان کے لئے قرآن کریم نے لفظ نزول استعمال نہیں فرمایا، ایک ہی نبی ہے ہمارا آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺہے جس کے متعلق کلام الہی نے فرمایا کہ وہ نازل ہوا ہے اور وہ اس لئے کہ خدا کی قسم ساری کائنات میں جتنے نبی آئے سب نے مل کر بنی نوع انسان کو وہ فوائد نہیں پہنچائے جتنے ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے پہنچائے۔ان معاندین کی نظر ہی وہاں تک نہیں پہنچتی ، ان کے دل اندھے ہیں ،ان کے دماغ ماؤف ہو چکے ہیں، قرآنی اصطلاحوں پر غور نہیں کرتے۔وہ دیکھنا ہی نہیں چاہتے کہ کیا بیان فرمایا گیا ہے ، وہ ان تمام حکمتوں سے عاری ہیں اور پھر اس پر انہیں جنسی آرہی ہے کہ دیکھو تاویلیں کی جارہی ہیں۔سنئے ! صرف یہی نہیں بلکہ ان میں انصاف بھی نہیں ہے ، آنحضرت ﷺ کی محبت کا دعویٰ بھی جھوٹا ہے، ان کے نزدیک تعظیم صرف ظاہری معنوں میں لفظ کے اطلاق کرنے میں ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے جب لفظ نزول استعمال ہوا ہے تو اگر ظاہری ترجمہ نہ کیا گیا تو حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک ہو گی اس لئے جماعت حضرت عیسی علیہ السلام کی گستاخ ہے اور قرآن و حدیث کی تاویلیں بنا کر حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے رستہ میں روک بن گئی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں لفظ نزول احادیث میں آیا ہے اس کی تاویل تو نہیں کرنے دیتے لیکن حضرت محمد مصطفی ع سے اور سلوک کرتے ہیں اور عیسی علیہ السلام سے اور سلوک کرتے ہیں۔زبانیں حضرت محمد مصطفی علیہ کی غلامی کا دعوی کرتی ہیں اور دل مسیح کی غلامی