خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 331
خطبات طاہر جلدم 331 خطبه جمعه ۱۲ / اپریل ۱۹۸۵ء نبوی میں لفظ نزول استعمال ہوا ہے لہذا ہم کسی قیمت پر بھی اس کا ایسا ترجمہ نہیں کرنے دیں گے کہ اس کی تاویل کرنی پڑے بلکہ اس کا صرف لفظی ترجمہ ہی کیا جا سکتا ہے اور جب بھی آپ لفظی ترجمہ سے ہیں گے وہاں نعوذ باللہ من ذلک تضحیک شروع ہو جائے گی اس لئے (بقول ان کے ) جماعت احمدیہ کے دلائل بالکل بودے اور بے معنی اور مضحکہ خیز ہیں۔جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح کے متعلق تو لفظ نزول احادیث میں آیا ہے لیکن آنحضرت علی کے متعلق لفظ نزول قرآن کریم میں آیا ہے۔جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے خطبہ کے شروع میں آیت تلاوت کی تھی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تم میں ذِكْرًا رَّسُولًا کو نازل فرمایا۔اور یہ امر واقعہ ہے کہ قرآن کریم کی رو سے سوائے آنحضرت ﷺ کے کسی ایک نبی کے متعلق بھی لفظ نزول استعمال نہیں ہوا۔لیکن چونکہ انہیں فہم نہیں ہے یہ لوگ ظاہر پرست ہو چکے ہیں اس لئے ان کے ذہن معارف سے کلیۂ خالی ہیں ، یہ کلام الہی کو سمجھتے ہیں اور نہ عقل ہی اتنی رکھتے ہیں کہ کلام الہی کا ایسا ترجمہ کریں جو اللہ کے وقار کے مطابق ہو بلکہ ظاہر پرست ہونے کی وجہ سے ان کو اصرار ہوتا ہے کہ لفظی ترجمہ کیا جائے۔اب سوال یہ ہے کہ لفظ نزول جو مختلف صورتوں میں آیا ہوا ہے اس کی حکمت کیا ہے۔چنانچہ اب میں آپ کو کھول کر بتاتا ہوں کہ جہاں تک دھاتوں کا تعلق ہے لوہے کے سوا قرآن کریم میں کسی دھات کے لئے بھی لفظ نزول استعمال نہیں ہوا۔بے شمار دھاتیں ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے صرف لو ہے کو چنا اور فرمایا کہ اسے ہم نے نازل کیا ہے۔جانور بھی ان گنت ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ سائنسدان آج تک ان کی قسموں کا شمار نہیں کر سکے لیکن سوائے انعام یعنی چو پاؤں کے خدا تعالیٰ نے کسی جانور کے لئے لفظ نزول استعمال نہیں فرمایا اس کی کیا حکمت ہے؟ ظاہر بات ہے کہ تمام بنی نوع انسان کو مختلف دھاتوں سے جو فوائد پہنچے ہیں وہ سارے ایک طرف اور لوہے سے جو فائدہ پہنچا ہے وہ ایک طرف۔یہ بات کل بھی سچ تھی اور آج بھی سچ ہے کہ بنی نوع انسان کو اس ایک دھات نے اتنے فوائد بخشے ہیں کہ تمام دنیا میں جتنی دھاتیں اور معدنیات ہیں انہوں نے مل کر بھی اتنے فوائد نہیں عطا کئے۔تو بات صاف کھل گئی کہ ان میں سے جو بہترین ہے، جو سب سے اعلیٰ ہے، جس سے عظیم فوائد وابستہ ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ اس چیز کے لئے لفظ نزول استعمال فرماتا ہے۔جانوروں میں دیکھ لیجئے کہ چوپائے جو دودھ دیتے ہیں، جو ہمارے