خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 329
خطبات طاہر جلدم 329 خطبه جمعه ۱۲ ر اپریل ۱۹۸۵ء جہاں تک حدید کا تعلق ہے وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ یہاں بھی جماعت احمدیہ کے نزدیک لفظ نزول چونکہ غیر معمولی فوائد کی چیزوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اس لئے جماعت احمدیہ کے نزدیک اس کا ترجمہ لوہے کا ظاہری طور پر اتر نا ہر گز نہیں کیونکہ وہ تو زمین سے نکلتا ہے بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کے غیر معمولی فوائد اس کے ساتھ وابستہ فرما دیئے ہیں اس لئے وہاں لفظ نزول آیا ہے۔معترضین کے نزدیک اس آیت کا غیر مضحکہ خیز ترجمہ یہ ہوگا لَقَدْ أَرْسَلْنَا کہ ہم نے رسولوں کو کھلے کھلے نشانات کے ساتھ بھیجا ہے اور ہم نے ان کے ساتھ کتابیں آسمان سے اس طرح اتاری ہیں جس طرح اولے گرتے ہیں یعنی جب نبی پیدا ہوئے یا نبیوں کو ہم نے نبی بننے کا حکم عطا فرمایا تو اس وقت تم نے دیکھا نہیں کہ آسمان سے بنی بنائی کتابیں بھی گر رہی تھیں۔لِيَقُومَ النَّاسُ با لقسط ہم نے ظاہری طور پر کتابوں کو اس لئے گرایا تھا تا کہ تم لوگ انصاف پر قائم ہو جاؤ۔پھر فرمایا کتابوں کے نازل ہونے پر تعجب کرتے ہو کیا تم نے دیکھا نہیں کہ ہم لوہا بھی اسی طرح آسمان سے پھینکتے ہیں اور کئی دفعہ تم دوڑ دوڑ کر اپنے گھروں میں چھپتے رہے ہو کہ لوہے سے سرنہ پھٹ جائیں اور جانوروں کو چھپاتے رہے ہو کہ کہیں لوہے کے گرنے سے بیچارے جانور نہ مر جائیں۔فِیهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ اس میں لڑائی کے بھی سامان ہیں اور اس کے علاوہ اور بھی فائدے ہیں پھر بھی تم ان باتوں سے عقل نہیں سیکھتے وَلِيَعْلَمَ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ہم نے ظاہری طور پر کتابیں اس لئے اتاریں اور تم پر لوہے کو بھی برسایا تا کہ اللہ کو یہ پتہ چل جائے کہ اللہ اور اس کے رسولوں کی غیب کی حالت میں کون مدد کرتا ہے۔اِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِیز۔یقینا اللہ تعالیٰ بہت قوی اور غالب ہے۔تو یہ ہے وہ ترجمہ جو غیرمضحکہ خیز کہا جاتا ہے۔یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا ایک اور آیت بھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: