خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 324 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 324

خطبات طاہر جلدم 324 خطبه جمعه ۱۲ / اپریل ۱۹۸۵ء انگریزی سے آٹھ سوروپیہ ماہوار کی پینشن دائمی نسلاً بعد نسل مقرر ہوئی۔“ یہ عجیب بات ہے کہ انگریز ایک ایسے خاندان کو جس سے متعلق یہ مولوی کہتے ہیں کہ اسے یا اس کی جماعت کو انگریز نے اپنے ہاتھ سے کاشت کیا تھا انہیں تو اس طرح بھلا دیا گیا کہ انعام دینا تو در کناران کی اپنی ضبط شدہ جائیدادیں بھی واگذار نہیں کیں اور نہ کسی خطاب یا القاب سے نواز الیکن دوسری طرف ان علماء کو جو ہم پر معترض ہیں ان کو نہ صرف یہ کہ جائیدادیں دیں، مربعے دیئے بلکہ ان کے لئے نسلاً بعد نسل وظیفے جاری کر دیئے۔جہاں تک بزرگان دیو بند کا تعلق ہے ان کے حالات میں ان کی اپنی ہی ایک کتاب سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔مولانا عاشق الہی صاحب ایک کتاب تذکرۃ الرشید جو مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی سوانح عمری پر مشتمل ہے اس میں وہ لکھتے ہیں: ان ایام میں آپ ( مولوی رشید احمد گنگوہی ) کو ان مفسدوں سے مقابلہ بھی کرنا پڑا جو غول کے غول پھرتے تھے حفاظت جان کی غرض سے تلوار اپنے پاس رکھتے اور گولیوں کی بوچھاڑ میں بہادر شیر کی طرح نکلے چلے آتے تھے۔ایک مرتبہ ایسا ہی اتفاق ہوا کہ حضرت امام ربانی (مولوی رشید احمد گنگوہی ) اپنے رفیق جانی مولانا قاسم العلوم ( مولانا محمد قاسم نانوتوی جو دیو بند کے جدا مجد ہیں ) اور طبیب روحانی اعلیٰ حضرت حاجی صاحب (حاجی امداد اللہ کی ) و نیز حافظ ضامن صاحب کے ہمراہ تھے کہ بند و تچیوں سے مقابلہ ہو گیا یہ نبرد آزما اور دلیر جتھا اپنی سرکار کے مخالف باغیوں کے سامنے بھاگنے یا ہٹ جانے والا نہ تھا۔“ یہ ہے ان کا قصہ۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تعلق ہے اس وقت تو جماعت احمدیہ قائم ہی نہیں ہوئی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابھی چھوٹی عمر کے تھے مگر بہر حال بعد کے زمانہ میں بھی معاندین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا جماعت احمدیہ کے متعلق کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکتے کہ جس میں آپ یا آپ کی جماعت نے مسلمانوں کے مفاد کے خلاف نعوذ باللہ من ذلک کبھی کوئی لڑائی کی ہو لیکن جس کو یہ خود مسلمانوں کے مفاد کی لڑائی کہہ