خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 322
خطبات طاہر جلدم 322 خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۸۵ء کے سلسلہ کا ایک حصہ ہے۔آج میں نے دو اعتراضات تو ایسے لئے ہیں جن کا ذکر میں پہلے بھی آپ کے سامنے کر چکا ہوں لیکن جس طرح قرطاس ابیض میں یہ اعتراض دوحصوں میں بانٹ کر اٹھایا گیا ہے اسی طرح اس کا جواب بھی دو حصوں میں بانٹ کر دیا جا رہا ہے۔ایک اعتراض تو عمومی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاد کے خلاف فتویٰ دیا اور انگریزوں کی خوشامد کی جس سے صاف ثابت ہوا کہ وہ خود کاشتہ پودا ہیں یا جماعت احمد یہ خود کاشتہ پودا ہے۔اسی اعتراض کو ایک اور رنگ میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ سکھوں کے دور حکومت میں حضرت مرزا صاحب کے والد مرزا غلام مرتضی نے انگریزوں کی بہی خواہی اور خیر خواہی میں اس مفسدہ کے دوران جو ۱۸۵۷ء کا مفسدہ کہلاتا ہے پچاس گھوڑے اور پچاس جنگجو سپاہی اپنے خرچ پر فراہم کئے اور اس طرح ایک جہاد کے دوران مسلمانوں کے خلاف ان کے والد نے انگریزوں کی مدد کی۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف کوئی ایسی لڑائی نہیں لڑی جسے مخالفین بطور مثال پیش کر سکتے اور یہ کہہ سکتے کہ دیکھو مرز اصاحب نے نہ صرف جہاد کے خلاف فتویٰ دیا بلکہ عملاً بھی فلاں موقع پر جبکہ مسلمان مصروف جہاد تھے انہیں روک دیا گیا یا ان کی مخالفت کی گئی اس لئے اب یہ بہت دور کی کوڑی لائے ہیں اور اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آباء واجداد کے واقعات بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایسا کیا۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جس دعوئی پر بناء کی گئی ہے وہ دعوی ہی جھوٹا ہے۔پاکستان کے آج کل کے مورخین غدر کے واقعات کو اس طرح پیش کر رہے ہیں کہ گویا وہ مسلمانوں کا انگریزوں کے خلاف ایک جہاد تھا اور تمام مسلمان متحدہ طور پر اس جہاد میں انگریز کے خلاف لڑائی میں مصروف تھے جبکہ یہ بات ہی بالکل جھوٹی ہے۔کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔جو واقعات تاریخ سے ثابت ہیں وہ یہ ہیں کہ بہادر شاہ ظفر کے دور حکومت کے آخر میں بعض فتنہ پردازوں نے جن میں پیش پیش اس زمانہ کے ہندو اور بدھ مذہب لوگ تھے نہ صرف یہ کہ بہادر شاہ کو گھیرے میں لے رکھا تھا بلکہ بعض مسلمان علماء کو بھی گھیرے میں لے کر ان سے زبر دستی فتویٰ لئے جارہے تھے کہ یہ جہاد ہے اور جہاں تک عام مسلمانوں کا تعلق ہے ان میں سے بھاری اکثریت اس میں شریک نہیں ہوئی بلکہ وہ علماء جو اسلام کے مسائل سے آگاہ تھے جن میں شعور بھی تھا اور تقویٰ بھی تھا وہ کھلم کھلا اس کے خلاف فتویٰ دے رہے