خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 316
خطبات طاہر جلدم 316 خطبه جمعه ۵ رابریل ۱۹۸۵ء حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق سنئے۔نبی کا کیا خوب نقشہ ان کے ذہن میں اترا ہوا ہے۔کہتے ہیں: وكانت احدى عينيه اعظم من الاخرى (الاتقان فی علوم القرآن لامام السیوطی حاشیه اعجاز القرآن للباقلانی ج ۲ صفحه ۱۳۸) کہ آپ کی ایک آنکھ بڑی تھی اور ایک چھوٹی تھی۔پھر شعیب علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے: وعمي في اخر عمره“ کہ آخری عمر میں آپ اندھے ہو گئے تھے۔(ایضاً صفحہ ۱۳۸) اور یہ تو خیر ابھی معمولی بات ہے۔اب سنئے حضرت ایوب علیہ السلام کے متعلق تفسیر جلالین کا حوالہ اور وہ نقشہ جو حضرت ایوب کی بیماری کا وہ کھینچتے ہیں۔لیکن قبل اس کے کہ میں یہ حوالہ پیش کروں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں تو فرماتا ہے کہ انبیاء کے اندر ہم پھونکتے ہیں اور پھر ان کو ایک نئی روحانی زندگی عطا کرتے ہیں یعنی نبیوں کے اندر ہم اپنی روح پھونکتے ہیں اور پھر ان کو خلعتِ نبوت سے سرفراز کرتے ہیں لیکن مفسرین نے حضرت ایوب علیہ السلام کے بارہ میں جو تصور پیش کیا ہے وہ سنئے۔فنفخ (ابليس) في منخريه اشتعل منها جسده، فخرج منها ثاليل مثل اليات الغنم، ووقعت فيه حکه فحک باظفاره، حتی سقطت كلها۔ثم حكها بالمسوح الخشنه حتى قطعها۔ثم حكها بالفخار و الحجارة الخشنة فلم يزل کذلک حتی تقطع جسده وانثنى فاخر جه اهل القرية۔وجعلوه على كناسة، وجعلواله عريشا۔وهجره الناس كلهم الازوجته، رحمة بنت افرائیم۔( حاشیہ الجلالين للعلامة احمد الصاوی جز ۳ صفحه ۷۲) کہ شیطان نے آپ کے نتھنوں میں پھونک ماری جس سے آپ کا بدن بھڑک اٹھا اور اس