خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 315
خطبات طاہر جلدم 315 خطبه جمعه ۵ را پریل ۱۹۸۵ء سید ولد آدم کو اعتراضات کا نشانہ بنایا گیا جو تمام نبیوں سے افضل تھے جن کی خاطر یہ کائنات معرض وجود میں آئی تھی اور یہ آپ ہی تھے جن کی حکمت اور جن کی ذہانت اور جن کی فطانت ایسی چمکی کہ خدا نے خود فرمایا یہ ایسا نور تھا کہ اگر آسمان سے شعلہ الہام نہ بھی نازل ہوتا تب بھی یہ نور جگمگا اٹھنے کے لئے تیار تھا۔اس سراپا نور کے بارے میں ولیم میور کہتا ہے: وو پیغمبر از حد الجھا ہوا( نعوذ بالله من ذالک اور اعصابی مریض تھا۔اندھیرے سے خوف زدہ (۔۔۔۔۔لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔۔۔) (لائف آف محمد صفحه ۲۰۸) میں تو اس حوالہ کو پڑھ بھی نہیں سکتا۔بیماری کے متعلق اگر کسی نے دیکھنا ہو اور اس میں اس اعتراض کو سننے کی ہمت ہو تو پادری سی جی فنڈر (Fander) کی کتاب میزان الحق ( مطبوعه ۱۸۶۱ صفحہ نمبر ۳۲۲، صفحہ نمبر ۳۲۷) کا مطالعہ کرے۔اس بے غیرت نے اس چسکے کے ساتھ مزے لے لے کر اعتراضات کئے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ بعض احادیث پر بنا رکھ کر اور بار بار یہ جتا کر کہا ہے کہ دیکھو یہ میں نہیں کہتا یہ تمہارے بزرگ ، تمہارے محدثین ، تمہاری فقہ کے بڑے بڑے استاد اور تمہارے بڑے بڑے مورخ لکھ چکے ہیں۔چنانچہ وہ ایسی فرضی حکایات کے حوالے پر حوالے دیتا چلا جاتا ہے۔جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور یا اس حقیقت کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بعض غلط نتائج نکالتا ہے جن کو حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بہر حال یہ روایت جس میں نعوذ بالله من ذالک مرگی کا ذکر ہی نہیں بلکہ نہایت ہی کمینے اور ذلیل الفاظ میں نقشہ کھینچا ہے یہ تو میں پڑھ نہیں سکتا لیکن اگر ہمارے مخالفین میں جرات ہے، ہمت ہے اور غالباً انہوں نے یہ باتیں ایسے ہی لوگوں سے سیکھی ہیں تو وہ خود یہ عبارتیں پڑھ سکتے ہیں۔ایک اور بڑے لطف کی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دو بیماریوں کا ذکر کر کے بڑے فخر سے کہا گیا ہے کہ یہ نبوت کا دعویدار! جو کمزور اور بیماریوں میں مبتلا ہے۔مگر ان انبیاء پر جن پر یہ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں کہ وہ خدا کے سچے نبی تھے خودان پر بیماریوں کے ایسے ایسے بہتان باندھتے ہیں جن میں کوئی بھی حقیقت نہیں۔ان بہتانوں میں سے جو بعض اسرائیلی روایات کی بناء پر خود مسلمان علماء نے باندھے ہوئے ہیں میں چند ایک آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔