خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 300 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 300

خطبات طاہر جلد۴ 300 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء سب نعمتیں حاصل ہوا کرتی تھیں، جب اس نے خدا کے نام پر ایک دعوی کیا تو تمام اعزہ واقارب ان کے شدید جانی دشمن بن گئے ، اپنے بھی دشمن ہوئے، دوست بھی دشمن ہوئے غیر تو پہلے ہی غیر تھے۔اور پھر اس مدعی کو ہر چیز سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی۔یہی واقعہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ گزرا مگر اس کے باجود اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کی بارشیں نازل فرمائیں لیکن حکومتی رسالہ کے لکھنے والے کو کوئی احساس نہیں ہوا اور کوئی خیال نہیں آیا کہ تاریخ اسلام کیا سبق دے رہی ہے اور وہ اس قسم کے ناپاک ، لغو اور جھوٹے حملے کر کے اسلام کو کیا تقویت دے رہے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ کا کیا حال تھا ؟ وہی ابو ہریرہ جسے فاقوں سے غش پڑ جایا کرتے تھے اور لوگ سمجھتے تھے کہ مرگی کا دورہ ہے لہذا بعض لوگ جو تیاں مارا یا سونگھایا کرتے تھے کیونکہ عرب سمجھتے تھے کہ مرگی کا یہی علاج ہے جبکہ وہ غریب تو مرگی سے نہیں فاقوں سے بے ہوش ہو جایا کرتا تھا۔لیکن چونکہ حضرت ابو ہریرہ خدا تعالیٰ کی خاطر یہ سب کچھ برداشت کر رہے تھے اور خدا تعالیٰ قربانی کرنے والوں کی قربانی کو کبھی ضائع نہیں فرماتا اس لیے حضرت ابو ہریرہ پر زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آیا کہ کسریٰ کا وہ شاندار رومال جو وہ اپنے لباس میں سجاوٹ کے لئے نمایاں طور پر دکھانے کے لئے لگایا کرتا تھا وہ رومال جو شاہی عظمت کی نشانی ہوا کرتا ہے وہ تھوکنے کے کام نہیں آیا کرتا۔وہ تو محض دکھاوے کے لئے ہوتا ہے اس سے بادشاہ کی عظمت اور شوکت نمایاں ہوتی ہے ) جب کسری کی حکومت فتح ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہی رومال حضرت ابو ہریرہ کو پیش کر دیا انہوں نے اس رومال پر تھوکا اور پھر کہا ”بخ بخ ابو هريرة “ واہ واہ ابو ہریرہ تیری کیا شان ہے آج محمد مصطفیٰ کی جوتیوں کے صدقے تو کسریٰ کے رومال پر تھوک رہا ہے۔66 (بخاری کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة حديث نمبر 6779) پس یہ تو درست ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے کوئی کمی نہیں آنے دی ہر طرف سے دولتوں کی ریل پیل تھی مگر خدا کی قسم آپ آخر وقت تک دنیا کی دولتوں کے منہ پر تھوکتے ہی چلے گئے اور کبھی ان سے پیار نہیں کیا۔ایک وقت ایسا تھا کہ آپ دستر خوان کے بچے کھچے ٹکڑے کھایا کرتے تھے اس سے ہمیں انکار نہیں لیکن غربت کی وجہ سے نہیں سرمایہ کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ آپ کو دنیا سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور پھر وہ وقت بھی آیا جبکہ لاکھوں انسان آپ کے دستر