خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 291

خطبات طاہر جلدم 291 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء کے لئے کھولی گئی ہے میں مرزا کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہوں میں اس کے حالات سے خوب واقف ہوں ، اصل میں آمدنی کم تھی بھائی نے جائیداد سے بھی محروم کر دیا اس لئے یہ دکان کھول لی ہے آپ لوگوں کے پاس کتا بیں اور اشتہار پہنچ جاتے ہیں ، آپ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کتنا بڑا بزرگ ہوگا، پتہ تو ہم کو ہے جو دن رات اس کے پاس رہتے ہیں، یہ باتیں میں نے آپ کی خیر خواہی کے لئے آپ کو بتائی ہیں۔( قادیانیت، اسلام کے لئے سنگین خطرہ صفحہ۱۲ ۱۳۰) یہ ہے وہ اعتراض جس کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (نعوذ بالله) عالم اسلام کے لئے ایک سنگین خطرہ بن گئے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت علہ جوسب نبیوں سے افضل اور مقصود کائنات تھے آپ پر بھی بعینہ یہی بات صادق آتی ہے کہ آپ کے قریب ترین رشتہ دار آپ کے شدید ترین دشمن بن گئے اتنے شدید کے بعضوں کا نام قرآن کریم میں ابولہب کے طور پر مشہور ہے اور اصل نام کو تو اکثر لوگ جانتے ہی نہیں کہ وہ کیا تھا۔وہ شدید دشمن آپ کا چا تھا اور اس کا پیشہ بھی یہی تھا کہ وہ ہر وقت لوگوں کو بہکا تا رہتا تھا اور یہ کہا کرتا تھا کہ ہم جانتے ہیں ہمارے خاندان کا لڑکا ہے۔تم لوگوں کو جو باہر سے آنے والے ہو اس کے بارے میں کیا پتہ۔اس پر بس نہیں مکہ کی ناکہ بندی کر کے قریش باہر سے آنے والوں کو دھوکا دیا کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ نعوذ بالله من ذالک یہ بڑا ظالم ہے۔کوئی جادو گر کہتا تو کوئی مجنون اور کوئی بیہودہ ناموں سے یاد کرتا تھا اور سب یہی کہتے تھے کہ یہ ساحر ہے۔کذاب ہے، ہمفتری ہے (نعوذ باللہ من ذالک) تم نہیں جانتے ہم تو گھر والے لوگ ہیں اس لئے ہم جانتے ہیں۔پس ان معاندین کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ الزام لگاتے ہوئے کوئی خیال نہیں آیا کہ وہ اعتراض جو سید ولد آدم، مقصود کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ پر کیا گیا اسے بڑے فخر کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دہرا رہے ہیں۔اس اعتراض کے سلسلہ میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۴۵ء کے آخری حصہ کا حوالہ دیا ہے جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ گویا مرزا شیر علی اتنا بڑا بزرگ تھا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد بھی یہ مانتے ہیں کہ وہ بہت بزرگ تھا اور اس طرح وہ راستہ میں