خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 269
خطبات طاہر جلدم 269 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“۔( بخاری کتاب العلم باب کیف يقبض العلم ) یہ بات کہ علماء جاہل ہوں گے اور بغیر علم کے فتوے دیں گے۔اس بارہ میں ثبوت کے لئے دور جانے کی ضرورت نہیں۔ابھی چند دن ہوئے اخبار ” جنگ‘لا ہور مورخہ ۳۱ / جنوری ۱۹۸۵ء میں پاکستان کے صدر کا ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں لکھا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ۵۰ ہزار امام مسجد ہیں جن میں سے ۳۶ ہزا ر امام نیم تعلیم یافتہ ہیں اور گیارہ ہزار کورے ان پڑھ ہیں۔لوگ اس محاورہ کو بھول جاتے ہیں کہ جس طرح نیم حکیم خطرہ جاں ہوا کرتا ہے اسی طرح نیم ملاں خطرہ ایمان ہوتا ہے۔چنانچہ مخبر صادق ع نے چودہ سو سال پہلے سے یہ خبر دے رکھی ہے۔پس علم اس طرح نہیں اٹھا کرتا کہ خدا تعالٰی علم کو کھینچ کے لے جاتا ہے۔عالم لوگ دنیا سے اٹھ جاتے ہیں۔ان کی جگہ جہلاء اور ان پڑھ لوگ لے لیتے ہیں اور پھر اپنی جہالت میں فتوے صادر کرتے ہیں اور دنیا میں فسادات پھیلاتے ہیں۔اخبار زمیندار لاہور ۱۴ اگست ۱۹۱۵ء کی اشاعت میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے۔چنانچہ اخبار لکھتا ہے: ” جب فضائے آسمانی میں کسی قوم کی دھجیاں اڑنے کے دن آتے ہیں تو ( کیا ہوتا ہے کوئی استعماری طاقت احمدیت کے بیچ نہیں بویا کرتی۔کچھ اور طریق ہوتا ہے دھجیاں اڑانے کا اور وہ بھی سن لیجئے کہتے ہیں) اس ( قوم) کے اعیان وا کا بر سے نیکی کی تو فیق چھین لی جاتی ہے ( یقینا گہرا حکمت کا کلام ہے اس میں کوئی شک نہیں۔لکھنے والے نے بہت صحیح نکتہ بیان کیا ہے کہ ایسی صورت میں قوم کے اعیان وا کا بر سے نیکی کی توفیق چھین لی جاتی ہے تب تو میں تباہ ہوا کرتی ہیں ) اور اس کے صاحب اثر و نفوذ افراد کی بداعمالیوں کو اس کی تباہی کا کام سونپ دیا جاتا ہے اور یہ خود اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔مسلمانان ہند کی شامت اعمال نے مدتہائے مدید سے جھوٹے پیروں اور جاہل مولویوں اور ریا کا رزاہدوں کی صورت اختیار کر رکھی ہے جنہیں نہ خدا کا خوف ہے نہ رسول کا پاس ، نہ شرع کی شرم نہ عرف کا لحاظ یہ ذی اثر و با اقتدار طبقہ جس نے اپنے دام تزویر میں لاکھوں انسانوں کو پھنسا رکھا ہے اسلام کے نام پر ایسی ایسی گھناؤنی حرکتوں کا مرتکب ہوتا ہے کہ ابلیس لعین کی پیشانی بھی عرق انفعال سے تر ہو ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہتے ہیں کہ انہوں نے دل آزاری کی باتیں کی ہیں مگر تمہارے اپنے علماء ، اپنے لکھنے والے اور صاحب نظر لوگ جو صورت حال