خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 255

خطبات طاہر جلدم 255 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء فرقہ بندی تھی ان کی تاریخ اٹھا کر پڑھو اور پھر آج کل کے علماء اسلام کا ان سے مقابلہ کرو تو صاف طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ آج بہت سے علماء اسلام کی جو حالت ہے وہ فوٹو ہے اس زمانہ کے علماء یہود اور نصاری کا“۔اور جہاں تک مسلمان شعراء کا تعلق ہے مسلمانوں کی زبوں حالی پر ان کے اشعار بڑے ہی دردناک ہیں۔مولانا حالی نے نوحہ کہا ہے۔پھر شکوہ اور جواب شکوہ میں علامہ اقبال نے جس طرح ذکر کیا ہے ایک لمبی کہانی ہے۔میں چند شعر آپ کو سنا تا ہوں۔مولاناحالی فرماتے ہیں : رہا دین باقی نہ اسلام باقی اک اسلام کا رہ گیا نام باقی اسلام کو ایک باغ سے تشبیہ دے کر فرماتے ہیں: پھر اک باغ دیکھے گا اجڑا سراسر جہاں خاک اڑتی ہے ہر سو برابر نہیں تازگی کا کہیں نام جس پر ہری ٹہنیاں جھڑ گئیں جس کی جل کر نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل ہوئے روکھ جس کے جلانے کے قابل پھر بڑے درد کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کو مخاطب کر کے عرض کرتے ہیں: اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے امت پر تری آکے عجب وقت پڑا ہے جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے جس دین کے مدعو تھے کبھی سینز رو کسری خود آج وہ مہمان سرائے فقراء ہے وہ دین ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں