خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 19

خطبات طاہر جلدم 19 خطبه جمعه ۴ /جنوری ۱۹۸۵ء اور اپنی زندگی ، اپنا آرام ، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہوا۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اُسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے لیکن میں اس خدمت کے لئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا تا کہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں۔میرا دوست کون ہے؟ اور میرا عزیز کون ہے؟ وہی جو مجھے پہچانتا ہے۔مجھے کون پہچانتا ہے؟ صرف وہی جو مجھ پر یقین رکھتا ہے کہ میں بھیجا گیا ہوں اور مجھے اُس طرح قبول کرتا ہے جس طرح وہ لوگ قبول کئے جاتے ہیں جو بھیجے گئے ہوں۔دنیا مجھے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ میں دنیا میں سے نہیں ہوں مگر جن کی فطرت کو اس عالم کا حصہ دیا گیا ہے وہ مجھے قبول کرتے ہیں اور کریں گے۔جو مجھے چھوڑتا ہے وہ اُس کو چھوڑتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔اور جو مجھ سے پیوند کرتا ہے وہ اُس سے کرتا ہے جس کی طرف سے میں آیا ہوں۔میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور وہ اس روشنی سے حصہ لے گا مگر جو شخص و ہم اور بدگمانی سے دور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔اس زمانہ کا حصن حصین میں ہوں۔جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا مگر جو شخص میری دیواروں سے دور رہنا چاہتا ہے ہرطرف سے اس کو موت در پیش ہے اور اُس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی پھر آپ فرماتے ہیں (فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۴۰) ”اے مسلمانو! جو اولوا العزم مومنوں کے آثار باقیہ ہو اور نیک لوگوں کی ذریت ہوا نکار اور بدظنی کی طرف جلدی نہ کرو اور اس خوفناک وبا سے ڈرو جو تمہارے ارد گرد پھیل رہی ہے (فتح اسلام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ نمبر ۳۱ )