خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 18
خطبات طاہر جلدم 18 خطبه جمعه ۴ /جنوری ۱۹۸۵ء اُس نے بنا کر دعائیں شروع کر دیں اور وہ کہتے ہیں کہ جب ہم اس گھر میں داخل ہوئے تو حیران رہ گئے یہ دیکھ کر اور میری بیوی کی تو خدا کے حضور جذبات تشکر اور حمد سے روتے ہوئے چیخیں نکل گئیں کہ جن لفظوں میں بیٹی دعائیں مانگ رہی تھی اُسی طرح بالکل اسی نقشہ کا مکان اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فر ما دیا۔تو جماعت احمد یہ تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کے سائے تلے آگے بڑھنے والی جماعت ہے۔ایک جگہ تم ظلم کا سایہ ڈالتے ہو تو چاروں طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ روشنی کر دیتا ہے، ہمارے لئے ایک جگہ تم آگ بھڑکاتے ہوتو ہر طرف خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتیں ہمیں عطا ہونے لگتی ہیں تمہاری تلواروں کے سائے کے نیچے بھی ہمارے لئے تسکین قلب رکھ دی گئی ہے۔تم کون ہوتے ہو ہمیں مٹانے والے تمہاری حیثیت کیا ہے۔خدا کے کاروبار تو کبھی بندوں سے رکے نہیں اور نہ رک سکتے ہیں۔ایک طرف جماعت احمد یہ ہے کہ جس کو مخاطب کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اور مبارک ہو اس جماعت کو کہ آج جماعت اس دور میں داخل ہو رہی ہے کہ واقعی ان الفاظ کوسن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو دیکھ کر اپنے سامنے رکھ کر یہ الفاظ فرمائے ہیں آپ فرماتے ہیں: ”اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلۂ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی ، اپنا آرام، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہوں“ کیسا سچا اور پاکیزہ کلام ہے کیسا محبت میں ڈوبا ہوا ہے اور آج جماعت احمدیہ کے افراد کے اوپر کس شان کے ساتھ یہ پورا ہورہا ہے:۔”اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلۂ بیعت میں 66 داخل ہو“ تقویٰ من اللہ کا کیسا اچھا نقشہ ہے خدا تعالیٰ کی رحمت جو تم پر ہے اسکی وجہ سے تم داخل ہو اسکی وجہ سے تمہیں یہ قربانیوں کی توفیق مل رہی ہے۔