خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 238
خطبات طاہر جلدم 238 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء پڑھتا رہا۔تھانہ باغبانپورہ (گوجرانوالہ) میں پہنچ کر ایک پولیس والا کہنے لگا اسے لٹاؤ اور دو چار لگاؤ۔چنانچہ مجھے لیٹنے کے لئے کہا گیا۔میں نہ لیٹتا تھا پھر دو تین آدمی آگے آئے ایک نے سر کے بال پکڑے دوسرے نے بازو مروڑا تیسرے نے ٹانگیں کھینچیں اور اس طرح مجھے زمین پر گرا دیا گیا اور پھر ایک سپاہی کے ہاتھ میں ہنٹر تھا اس نے ہنٹر سے سات آٹھ ضربات لگائیں ہر ضرب پر میں کلمہ طیبہ اونچی آواز میں پڑھتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ تم تو کافروں میں سے آئے ہو اور ضرب لگاتے اور پھر کہتے کہ ہم تمہارا کلمہ نکالتے ہیں بڑے کلمہ پڑھنے والے آئے۔اس کے بعد جب ان کی خدمت اسلام کی یہ تمنا اور یہ حسرت ابھی اچھی طرح پوری نہ ہوئی تو ایک پولیس والے کو یہ خیال آیا کہ اسلام کی خدمت تو اس سے بھی بڑھ کر ہونی چاہئے۔چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس کی شلواراتارو پھر شلوار اترنے کے لئے جد و جہد شروع ہوگئی پانچ سات سپاہی مل کر شلواراتارنے میں کامیاب ہوئے اور پھر مجھے الٹالٹکا کر ننگی پیٹھ پر ضربات لگائی گئیں۔مگر خدا تعالیٰ نے منہ سے صرف کلمہ طیبہ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی۔اتنے میں چند اور سپاہی اکٹھے ہو کر آگئے اور پوچھنے لگے کہ اپنے مرزا کی باتیں سناؤ وہ کہاں پیدا ہوا اور کہاں مرا۔انہوں نے مجھے ماں ، باپ، بہن ، وغیرہ کی گندی گالیاں دیں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مغلظات بکیں وہ آدھ گھنٹہ کے قریب گالیاں دیتے رہے اور میں استغفار پڑھتا رہا۔جسم کی ضربات کے متعلق ایک بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے اسی ہنٹر سے پیٹھ کے علاوہ سر اور کندھوں پر نہ جانے کتنی ضربات لگائیں“۔یہ ہے پاکستان میں کلمہ طیبہ کی خدمت اور خدمت اسلام کا تصور۔کیا آپ کو عرب کے پتے ہوئے وہ صحرا یاد نہیں آگئے جہاں سید نا حضرت بلال حبشی کو اسی جرم میں گھسیٹا جا رہا تھا ، جہاں انگیٹھیوں سے پیتے ہوئے انگارے نکال کر کلمہ پڑھنے والوں کی چھاتیوں پر رکھ دیئے جاتے تھے اور ان کی پیٹھوں کے نیچے زمین پر بھی وہ انگارے بچھا دئے جاتے تھے اور ان انگاروں کے نتیجہ میں بننے