خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 17

خطبات طاہر جلدم 17 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۸۵ء سارا مکان کا فکر تمہارا ختم ہو گیا ، آج ان بچوں کے دلوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جسے آسمان نے قبول کر لیا ہے اور تم دیکھنا کہ خدا ان کو کبھی جھونپڑیوں میں نہیں جانے دے گا۔اس کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا وہ واقعہ خود اپنی ذات میں ایک نشان ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ پھر مکان کا ملنا کوئی حادثاتی چیز نہیں تھی بلکہ خالصہ اللہ تعالیٰ کے تصرف کے نتیجہ میں ایک اور نشان پر بناء کرتے ہوئے ان کو وہ مکان ملا۔کہتے ہیں کہ ایک دو دن کے اندر ہمارے ہمسایوں کا ایک بچہ اغوا ہو گیا اور ماں کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی ، وہ ہمارے گھر آئی اور خوب روئی اور گریہ وزاری کی بڑی سخت پریشان تھی۔چنانچہ انہوں نے اس سے کہا کہ میں تمہیں ایک تجر بہ بتا تا ہوں ہمیں جب بھی مشکل پڑتی ہے تو ہم خلیفہ وقت کو دعا کے لئے خط لکھتے ہیں، خود بھی دعا کرتے ہیں اور وہاں سے بھی دعا کی امید رکھتے ہیں، تو بسا اوقات اللہ تعالیٰ ہمارے مشکل کام نکال دیتا ہے۔تو تمہیں یقین تو نہیں ہے لیکن تجربہ ایک دفعہ کرلو، میں منت کرتا ہوں غم تو تمہارا ہے مگر مجھے تکلیف ہے۔کہتے ہیں کہ میں نے اتنی سنجیدگی سے کہا کہ اس عورت کے دل میں یقین آگیا اور اس نے کہا لا ؤ پھر ابھی خط لکھو اور میں دستخط کرتی ہوں۔وہ خط لکھا دستخط کئے لیکن اس دن ڈاک نکل چکی تھی ڈاک میں نہیں ڈال سکے۔دوسرے دن بارہ ایک بجے کے قریب انہوں نے خط ڈاک میں بجھوایا۔اور کہتے ہیں کہ مجھے یقین تھا کہ دعا تو اللہ تعالیٰ نے قبول کرنی ہے اس کے لئے ماضی کیا اور مستقبل کیا، اس لئے خط اب چلا گیا ہے تو ضرور خدا تعالیٰ کوئی رحمت کا نشان دکھائے گا اور ڈیڑھ گھنٹہ کے اندراندر اسی گھر سے فون پر اطلاع آئی کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے فلاں شہر سے ہمارا بچہ مل گیا ہے اور اب دیکھیں اس کا نتیجہ کہ بچہ تو مل گیا ان کو بھی خدا تعالیٰ نے اپنے قرب کا نشان دکھایا جماعت کے لئے لیکن ان کے والد کا جو باہر رہتے تھے کسی جگہ انکا اس جگہ سے اطمینان اُٹھ گیا اور انہوں نے وہاں سے آرڈر دیا کہ فوراً یہ گھر خالی کر دو اور میرے پاس آجاؤ، اب میں تمہیں یہاں نہیں چھوڑ سکتا اور وہی ماں گھر کی چابی لے کر اُن کے پاس آگئی اور کہا کہ یہ مکان آپ نے رکھنا ہے تو رکھ لیں اور وہ مکان اتنا عمدہ اور کھلا تھا۔صرف یہی نہیں بلکہ اس میں ایک اور عجیب واقعہ ہوا کہ اُنکی بچی نے ، بعد میں جب جھونپڑے والی بات ہوئی۔انکی چھوٹی سی بچی ہے ، تو تلی زبان میں بولتی ہے اُس نے یہ دعا کی اے خدا ! مجھے کو ٹھے والا مکان دے جس کے کوٹھے پر صحن ہوں اور اسطرح چار صحن ہوں دو نیچے اور دو او پر ان قسم کا کوئی نقشہ